مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر “ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ : كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ : سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَلِمَتَانِ إِحْدَاهُمَا لَيْسَ لَهَا نَاهِيَةٌ دُونَ الْعَرْشِ ، وَالْأُخْرَى تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ " . ¤ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِابْنِ أَبِي عَمْرَةَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ يَقُولُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَبَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَتَّى اخْتَضَبَتْ لِحْيَتُهُ بِدُمُوعِهِ ، وَقَالَ : هُمَا كَلِمَتَانِ نُعَلِّقُهُمَا وَنَأْلَفُهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَمُعَاذُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ حَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤معاذ بن عبداللہ بن رافع بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسی محفل میں موجود تھا ، جس میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمن بن ابوعمرہ موجود تھے ، ابن ابوعمرہ نے کہا: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دو کلمات ہیں ، ان میں سے ایک ایسا ہے جس کے لیے عرش سے پہلے کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور دوسرا ایسا ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان موجود جگہ کو بھر دیتا ہے : «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ» سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ابن ابوعمرہ سے کہا: کیا تم نے خود سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رونے لگے ، یہاں تک کہ اُن کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی اور انہوں نے فرمایا : یہ دو ایسے کلمات ہیں ، جنہیں ہم پڑھا کرتے تھے اور ان سے الفت رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور معاذ بن عبداللہ بن رافع نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔