حدیث نمبر: 16816
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوَصِيَّةِ نُوحٍ ابْنَهُ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " أَوْصَى نُوحٌ ابْنَهُ فَقَالَ لِابْنِهِ : يَا بُنَيَّ ، إِنِّي أُوصِيكَ بِاثْنَتَيْنِ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ . أُوصِيكَ بِقَوْلِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; فَإِنَّهَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ فِي كِفَّةٍ لَرَجَحَتْ بِهِنَّ ، وَلَوْ كَانَتْ حَلْقَةً لَقَصَمَتْهُنَّ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَى اللَّهِ . وَبُقُولِ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ; فَإِنَّهَا عِبَادَةُ الْخَلْقِ ، وَبِهَا تُقْطَعُ أَرْزَاقُهُمْ . وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ : الشِّرْكُ وَالْكِبْرُ ; فَإِنَّهُمَا يَحْجُبَانِ عَنِ اللَّهِ " . ¤ قَالَ : فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَتَّخِذَ الرَّجُلُ الطَّعَامَ فَيَكُونُ عَلَيْهِ الْجَمَاعَةُ ؟ أَوْ يَلْبَسُ النَّظِيفَ ؟ قَالَ : " لَيْسَ [ ذَاكَ ] - يَعْنِي بِالْكِبْرِ - إِنَّمَا الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ وَتَغْمِصَ النَّاسَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْوَصَايَا فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ - عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ - . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو سیدنا نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو کی گئی وصیت کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے ، اپنے بیٹے سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں تمہیں دو باتوں کی تلقین کرتا ہوں اور میں تمہیں دو چیزوں سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہوں ، میں تمہیں یہ تلقین کرتا ہوں کہ ” لا الہ الا اللہ “ پڑھو ! کیونکہ اگر اس کو میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور آسمانوں اور زمین کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو اس کا پلڑا بھاری ہو گا اور اگر کوئی حلقہ موجود ہو ، تو یہ اس کو چیر کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ جائے گا اور تم ” سبحان الله العظيم و بحمدہ “ پڑھو ! کیونکہ یہ مخلوق کی عبادت ہے اور اسی کی وجہ سے اُن کا رزق تقسیم ہوتا ہے ، اور میں تمہیں دو چیزوں سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہوں ، شرک اور تکبر ، کیونکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ سے دور کر دیتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز تکبر میں داخل ہو گی ؟ کہ آدمی کھانا لائے اور اس پر ایک جماعت کھانے والی آ جائے ، یا آدمی صاف ستھرا لباس پہنے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ نہیں ہے ( یعنی تکبر نہیں ہے ) تکبر یہ ہے کہ تم حق سے روگردانی کرو اور لوگوں کو حقیر سمجھو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ” مدلس “ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الوصایا میں ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے جو سیدنا نوح علیہ السلام کی وصیت کے بارے میں ہے ، ہمارے نبی پر اور ان پر سلام ہو !

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16816
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3069)»