مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ “ کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي . فَقَالَ : " أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ ، أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُبَشِّرُ النَّاسَ ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذًا يَتَّكِلُ النَّاسُ ! فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي الْإِيمَانِ ، فِي بَابِ مَنْ شَهْدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرے ساتھ میری قوم کے کچھ افراد تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ خوشخبری حاصل کرو اور اپنے پیچھے موجود لوگوں کو بھی یہ خوشخبری سنا دو ! کہ جو شخص اس بات کی سچی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ “ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلئے تاکہ ہم لوگوں کو خوشخبری سنائیں ، ہماری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، وہ ہمیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں لوگ اسی بات پر اکتفاء کر لیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔ اس روایت کے مختلف طرق اس سے پہلے ، کتاب الایمان میں ، باب ، جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، میں گزر چکے ہیں ۔