مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: ’’ لا الہ الا اللہ “ کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَكْتُ حَاجَةً وَلَا دَاجَّةً إِلَّا [ قَدْ ] أَتَيْتُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ؟ " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ يَأْتِي عَلَى ذَاكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا طُرُقٌ فِي الْإِيمَانِ فِي بَابِ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ہر قسم کی برائی کا ارتکاب کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دریافت کی ، اُس نے عرض کی : جی ہاں ! ( یعنی میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اس پر آ جائے گا ۔ “ ( یعنی یہ گواہی تمہارے ان گناہوں کو ختم کر دے گی ) ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ، کتاب الایمان میں ، اس باب میں گزر چکے ہیں کہ اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں ( یعنی گناہوں ) کو ختم کر دیتا ہے ۔