حدیث نمبر: 16783
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ الْجَبَلَ يُنَادِي الْجَبَلَ بِاسْمِهِ : أَيْ فُلَانُ هَلْ مَرَّ بِكَ [ الْيَوْمَ ] أَحَدٌ ذَكَرَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا قَالَ : نَعَمْ . اسْتَبْشَرَ . ¤ قَالَ عَوْنٌ : فَيَسْمَعْنَ الشَّرَّ ، وَلَا يَسْمَعْنَ الْخَيْرَ ؟ هُنَّ لِلْخَيْرِ أَسْمَعُ . وَقَرَأَ : ( وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ مَرَّ فِي فَضْلِ الْمَسَاجِدِ وَالْبِقَاعِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کا نام لے کر اسے بلند آواز میں مخاطب کر کے یہ کہتا ہے : اے فلاں ! کیا آج تم پر سے کوئی ایسا فرد گزرا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا ہو ؟ تو اگر دوسرا پہاڑ جواب دے : جی ہاں ! تو وہ خوشخبری حاصل کرتا ہے ۔ “ عون نامی راوی کہتے ہیں : وہ بری چیزیں سن لیں گے اور بھلائی کی چیزیں نہیں سنیں گے ؟ وہ بھلائی کی چیزیں تو زیادہ بہتر طور پر سنتے ہیں ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ ( یعنی کفار ) یہ کہتے ہیں : رحمن کی اولاد ہے ، تحقیق تم نے بڑی غلط بات کہی ہے ، قریب ہے کہ ( تمہاری ) اس بات کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں یا زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ( ٹکڑے ہو کر ) گر جائیں ، اس بات پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد مانی ہے ، حالانکہ رحمن کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی اولاد ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے مساجد اور زمین کے ان حصوں کی فضیلت کے بارے میں روایات گزر چکی ہیں ، جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16783
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8542)»