کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: زمین کے ان حصوں کا بیان ، جن پر اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 16781
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ بُقْعَةٍ يُذْكَرُ اللَّهُ عَلَيْهَا بِصَلَاةٍ أَوْ بِذِكْرٍ إِلَّا اسْتَبْشَرَتْ بِذَلِكَ إِلَى مُنْتَهَاهَا إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ، وَفَخَرَتْ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْبِقَاعِ ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَقُومُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ إِلَّا تَزَخْرَفَتْ لَهُ الْأَرْضُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین کے جس بھی حصے پر ، نماز یا ذکر کی صورت میں ، اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ، تو اُس حصے سے لے کر ، ساتویں زمین تک ، اس حوالے سے بشارت حاصل کرتا ہے ، اور اپنے اردگرد موجود حصوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے ، اور جب کوئی بندہ کسی بے آب و گیاہ جگہ پر کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگتا ہے ، تو زمین اُس کے لیے آراستہ ہو جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16782
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ بُقْعَةٍ يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهَا بِصَلَاةٍ إِلَّا فَخَرَتْ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْبِقَاعِ ، وَاسْتَبْشَرَتْ لِذِكْرِ اللَّهِ إِلَى مُنْتَهَاهَا إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بَكْرٍ الْبَالِسِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین کے جس بھی حصے میں نماز کی شکل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ حصہ اپنے اردگرد کے حصوں پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور وہاں سے لے کر ساتویں زمین تک ، اللہ تعالیٰ کے ذکر کے حوالے سے خوشخبری حاصل کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بکر بالسی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بکر بالسی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 16783
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ الْجَبَلَ يُنَادِي الْجَبَلَ بِاسْمِهِ : أَيْ فُلَانُ هَلْ مَرَّ بِكَ [ الْيَوْمَ ] أَحَدٌ ذَكَرَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا قَالَ : نَعَمْ . اسْتَبْشَرَ . ¤ قَالَ عَوْنٌ : فَيَسْمَعْنَ الشَّرَّ ، وَلَا يَسْمَعْنَ الْخَيْرَ ؟ هُنَّ لِلْخَيْرِ أَسْمَعُ . وَقَرَأَ : ( وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ مَرَّ فِي فَضْلِ الْمَسَاجِدِ وَالْبِقَاعِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کا نام لے کر اسے بلند آواز میں مخاطب کر کے یہ کہتا ہے : اے فلاں ! کیا آج تم پر سے کوئی ایسا فرد گزرا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا ہو ؟ تو اگر دوسرا پہاڑ جواب دے : جی ہاں ! تو وہ خوشخبری حاصل کرتا ہے ۔ “ عون نامی راوی کہتے ہیں : وہ بری چیزیں سن لیں گے اور بھلائی کی چیزیں نہیں سنیں گے ؟ وہ بھلائی کی چیزیں تو زیادہ بہتر طور پر سنتے ہیں ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ ( یعنی کفار ) یہ کہتے ہیں : رحمن کی اولاد ہے ، تحقیق تم نے بڑی غلط بات کہی ہے ، قریب ہے کہ ( تمہاری ) اس بات کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں یا زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ( ٹکڑے ہو کر ) گر جائیں ، اس بات پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد مانی ہے ، حالانکہ رحمن کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی اولاد ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے مساجد اور زمین کے ان حصوں کی فضیلت کے بارے میں روایات گزر چکی ہیں ، جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے مساجد اور زمین کے ان حصوں کی فضیلت کے بارے میں روایات گزر چکی ہیں ، جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔