حدیث نمبر: 16771
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ - وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ - رِجَالٌ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ ، يَغْشَى بَيَاضُ وُجُوهِهِمْ نَظَرُ النَّاظِرِينَ ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ بِمَقْعَدِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هُمْ ؟ ! قَالَ : " هُمْ جِمَاعٌ مِنْ نَوَازِعِ الْقَبَائِلِ ، يَجْتَمِعُونَ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ ، فَيَنْتَقُونَ أَطَايِبَ الْكَلَامِ كَمَا يَنْتَقِي آكِلُ التَّمْرِ أَطَايِبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( قیامت کے دن ) رحمان کے دائیں طرف ۔ ویسے اُس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ۔ ( اس کے دائیں طرف ) کچھ ایسے افراد ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، اُن کے چہرے کی چمک دیکھنے والوں کی نگاہ کو ڈھانپے ہوئے ہو گی ، انبیاء کرام اور شہداء اُن کے بیٹھنے کے مقام اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے قرب کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد ہوں گے ، جو اللہ کے ذکر کی خاطر اکٹھے ہوتے ہوں گے ، اور چن چن کر پاکیزہ باتیں یوں حاصل کریں گے جس طرح کھجور کھانے والا شخص ، عمدہ کھجوریں چن چن کر کھاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح