مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَجَالِسِ الذِّكْرِ . باب: ذکر کی مجالس کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ جَمَاعَةِ النِّسَاءِ ، فَقَالَ : " لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَتِهِنَّ إِلَّا عِنْدَ ذِكْرٍ ، أَوْ جِنَازَةٍ ، وَإِنَّمَا مَثَلُ جَمَاعَتِهِنَّ إِذَا اجْتَمَعْنَ كَمَثَلِ صَيْقَلٍ أَدْخَلَ حَدِيدَةً النَّارَ ، فَلَمَّا أَحْرَقَهَا ضَرَبَهَا ، فَأَحْرَقَ شَرَرُهَا كُلَّ شَيْءٍ أَصَابَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَادَةَ ، وَيَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اللہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین کے اجتماع کے بارے میں دریافت کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کے اجتماع میں بھلائی نہیں ہے ، البتہ ذکر ، یا جنازے کا معاملہ مختلف ہے ، اُن کے اجتماع کی مثال ، جب وہ اکٹھی ہوتی ہیں ، تو ان کے اجتماع کی مثال صیقل کی مانند ہے کہ جب لوہے کو آگ میں داخل کیا جاتا ہے ، اور جب وہ گرم ہو جاتا ہے ، تو اُس پر ضرب لگائی جاتی ہے ، تو اس کے شرارے ہر اس چیز کو جلا دیتے ہیں ، جسے وہ لگتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے یحیی بن اسحاق کے حوالے سے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔