حدیث نمبر: 16769
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ سَيَّارَةً مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، يَطْلُبُونَ حِلَقَ الذِّكْرِ ، فَإِذَا أَتَوْا عَلَيْهِمْ وَحَفُّوا بِهِمْ ، ثُمَّ بَعَثُوا رَائِدَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ إِلَى رَبِّ الْعِزَّةِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، أَتَيْنَا عَلَى عِبَادٍ مِنْ عِبَادِكَ يُعَظِّمُونَ آلَاءَكَ ، وَيَتْلُونَ كِتَابَكَ ، وَيُصَلُّونَ عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَسْأَلُونَكَ لِآخِرَتِهِمْ وَدُنْيَاهُمْ ، فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : غَشُّوهُمْ رَحْمَتِي ، فَيَقُولُونَ : يَا رَبِّ ، إِنَّ فِيهِمْ فُلَانًا الْخَطَّاءَ إِنَّمَا اعْتَنَقَهُمُ اعْتِنَاقًا ! فَيَقُولُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : غَشُّوهُمْ رَحْمَتِي ; فَهُمُ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ زَائِدَةَ بْنِ أَبِي الرُّقَادِ ، عَنْ زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ، وَكِلَاهُمَا وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، فَعَادَ هَذَا إِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ گھومنے پھرنے والے فرشتے ہوتے ہیں ، جو ذکر کے حلقوں کو تلاش کرتے ہیں ، جب وہ ان حلقوں کے پاس آتے ہیں ، تو انہیں ڈھانپ لیتے ہیں ، پھر وہ اپنے نمائندے کو آسمان کی طرف رب العزت کی بارگاہ میں بھیجتے ہیں اور کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہم تیرے بندوں میں سے کچھ بندوں کے پاس آئے ، جو تیری نعمتوں کی عظمتوں کا اعتراف کر رہے تھے ، اور تیری کتاب کی تلاوت کر رہے تھے ، اور تیرے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج رہے تھے ، اور وہ تجھ سے دنیا اور آخرت کا سوال کر رہے تھے ، تو پروردگار فرماتا ہے : تم میری رحمت کے ذریعے انہیں ڈھانپ لو ! فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! اُن کے درمیان فلاں گناہ گار شخص موجود تھا ، وہ ذرا سی دیر کے لیے اُن کے پاس آیا تھا ، تو پروردگار فرماتا ہے : تم اُن لوگوں کو میری رحمت کے ذریعے ڈھانپ لو ! کیونکہ وہ ساتھ بیٹھے ہوئے ایسے افراد ہیں کہ جن کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بدنصیب ( یعنی محروم ) نہیں رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے زائدہ بن ابورقاد کے حوالے سے زیاد نمیری سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ، تو یہ سند حسن ہو جاتی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3063 و 3062)»