مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَجَالِسِ الذِّكْرِ . باب: ذکر کی مجالس کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ لِلَّهِ سَرَايَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ تُجِلُّ اللَّهَ ، وَتَقِفُ عَلَى مَجَالِسِ الذِّكْرِ فِي الْأَرْضِ فَارْتَعُوا فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ " . قَالُوا : وَأَيْنَ رِيَاضُ الْجَنَّةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَجَالِسُ الذِّكْرِ ، فَاغْدُوَا وَرُوحُوا فِي ذِكْرِ اللَّهِ ، وَاذْكُرُوهُ بِأَنْفُسِكُمْ ، مَنْ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَتَهُ عِنْدَ اللَّهِ فَلْيَنْظُرْ كَيْفَ مَنْزِلَةُ اللَّهِ عِنْدَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُنْزِلُ الْعَبْدَ مِنْهُ حَيْثُ أَنْزَلُهُ مِنْ نَفْسِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى عُفْرَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ کچھ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا احترام کرتے ہیں اور زمین میں ذکر کی محافل کے پاس ٹھہرتے ہیں ، تو تم لوگ جنت کے باغوں میں سے کچھ کھانے کے لئے حاصل کر لیا کرو ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جنت کے باغات کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ذکر کی محافل ، تم لوگ صبح و شام اللہ کا ذکر کیا کرو ، اور دل میں بھی اس کا ذکر کیا کرو ، جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ یہ بات جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کی قدر و منزلت کیا ہے ؟ تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ اُس کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی عظمت کیا ہے ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے حوالے سے بندے کو اُسی مقام پر رکھتا ہے ، جیسے بندہ اللہ تعالیٰ کو اپنے نزدیک سمجھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبدالله ہے جو عفرہ کا غلام ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، ان کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔