مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَجَالِسِ الذِّكْرِ . باب: ذکر کی مجالس کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16767
وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فِيهِ فَيَقُومُونَ حَتَّى يُقَالَ لَهُمْ : قُومُوا ، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ، وَبُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُتَوَكِّلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَالِدُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سہیل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی کچھ لوگ کسی محفل میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، تو جب وہ اُٹھتے ہیں ، تو ان سے کہا: جاتا ہے : تم ایسی حالت میں اُٹھو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے گناہوں کی مغفرت کر دی ہے ، اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی متوکل بن عبدالرحمن ہے جو محمد بن ابوسری کا والد ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔