مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَجَالِسِ الذِّكْرِ . باب: ذکر کی مجالس کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَذْكُرُ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا إِنَّكُمُ الْمَلَأُ الَّذِينَ أَمَرَنِي اللَّهُ أَنْ أُصَبِّرَ نَفْسِي مَعَكُمْ " . ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : ( وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ ) . إِلَى قَوْلِهِ : ( وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا ) ، أَمَا إِنَّهُ مَا جَلَسَ عُدَّتُكُمْ إِلَّا جَلَسَ مَعَهُمْ عِدَّتُهُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، إِنْ سَبَّحُوا اللَّهَ - تَعَالَى - سَبَّحُوهُ ، وَإِنْ حَمِدُوا اللَّهَ - تَعَالَى - حَمِدُوهُ ، وَإِنْ كَبَّرُوا اللَّهَ كَبَّرُوهُ ، ثُمَّ يَصْعَدُونَ إِلَى الرَّبِّ - جَلَّ ثَنَاؤُهُ - وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ فَيَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا ، عِبَادُكَ سَبَّحُوكَ فَسَبَّحْنَا ، وَكَبَّرُوكَ فَكَبَّرْنَا ، وَحَمِدُوكَ فَحَمِدْنَا ، فَيَقُولُ رَبُّنَا : يَا مَلَائِكَتِي ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي غَفَرْتُ لَهُمْ ، فَيَقُولُونَ : فِيهِمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ الْخَطَّاءُ . فَيَقُولُ : هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو اپنے اصحاب کے ہمراہ ذکر کر رہے تھے ( یعنی انہیں وعظ و نصیحت کر رہے تھے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ایسا گروہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپ کو تمہارے ساتھ رکھوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور اس کا معاملہ حد سے گزر گیا ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک تمہاری تعداد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا تعلق ہے ، تو اتنی ہی تعداد میں فرشتے بھی ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں تو فرشتے بھی اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ، تو فرشتے بھی اس کی حمد بیان کرتے ہیں ، اگر وہ لوگ اللہ کی کبریائی کا ذکر کرتے ہیں ، تو فرشتے بھی اس کی کبریائی کا ذکر کرتے ہیں ، پھر وہ فرشتے اوپر پروردگار کی بارگاہ میں چلے جاتے ہیں ، وہ پروردگار ان فرشتوں سے زیادہ علم رکھتا ہے ، فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! تیرے بندے تیری تسبیح بیان کر رہے تھے ، تو ہم نے بھی تیری تسبیح بیان کی ، وہ تیری کبریائی بیان کر رہے تھے تو ہم نے بھی تیری کبریائی بیان کی ، وہ تیری حمد بیان کر رہے تھے تو ہم نے بھی تیری حمد بیان کی ، تو ہمارا پروردگار یہ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میں تمہیں گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے ان لوگوں کی مغفرت کر دی ہے ، فرشتے عرض کرتے ہیں : اُن کے درمیان فلاں اور فلاں خطاکار شخص موجود تھا ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وہ لوگ ( یعنی ذکر کرنے والے لوگ ) ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بدنصیب ( یعنی محروم ) نہیں رہتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حماد کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔