حدیث نمبر: 16759
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَقَالَ : " سَبَقَ الْمُفْرِدُونَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْمُفْرِدُونَ ؟ قَالَ : " الْمُفْرِدُونَ بِذِكْرِ اللَّهِ ، وَضَعَ الذِّكْرُ عَنْهُمْ أَثْقَالَهُمْ ، فَيَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِفَافًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مفردون “ سبقت لے گئے ہیں ، لوگوں نے دریافت کیا : ” مفردون “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور وہ ذکر اُن سے اُن کے بوجھ کو اُٹھا دیتا ہے ( یعنی اس ذکر کی برکت سے ، اُن کی پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں ، یا ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ) اور جب وہ قیامت کے دن آئیں گے تو وہ ہلکے پھلکے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16759
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف