حدیث نمبر: 16758
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ السَّابِقُونَ ؟ " . قَالُوا : مَضَى نَاسٌ ، وَتَخَلَّفَ نَاسٌ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّابِقُونَ ؟ الَّذِينَ يَسْتَهْتِرُونَ بِذِكْرِ اللَّهِ . مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْتَعَ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ فَلْيُكْثِرْ ذِكْرَ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ : يُقَالُ : هَتَرَ بِالشَّيْءِ ، وَاسْتَهْتَرَ بِهِ إِذَا وَلِعَ بِهِ ، وَلَمْ يَتَحَدَّثْ بِغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سبقت لے جانے والے لوگ کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کی : کچھ لوگ آگے چلے گئے ہیں اور کچھ پیچھے آ رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سبقت لے جانے والے لوگ کہاں ہیں ؟ وہ لوگ جو ہمیشہ اللہ کے ذکر میں منہمک رہتے ہیں ، جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جنت کے باغات کے پھل حاصل کرے ، اُسے کثرت کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
ابن اثیر بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے : «هَتَرَ بالشَّنِي ، وَاسْتَهْتَر به» - جب آدمی کسی چیز سے متعلق رہے اور اس کے علاوہ اور کچھ نہ کرے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأذكار / حدیث: 16758
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (157/20)»