مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَالْإِكْثَارِ مِنْهُ باب: اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت اور اُسے زیادہ کرنا
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ : أَيُّ الْجِهَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا " . ¤ قَالَ : فَأَيُّ الصَّالِحِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ : " أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا " . ¤ ثُمَّ ذَكَرَ الصَّلَاةَ ، وَالزَّكَاةَ ، وَالْحَجَّ ، وَالصَّدَقَةَ ، كُلُّ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَكْثَرُهُمْ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - ذِكْرًا " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ : يَا أَبَا حَفْصٍ ، ذَهَبَ الذَّاكِرُونَ بِكُلِّ خَيْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : سَأَلَهُ ، فَقَالَ : أَيُّ الْمُجَاهِدِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ . وَفِيهِ زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَكَذَلِكَ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک شخص نے آپ سے سوال کیا : کون سا جہاد زیادہ اجر کا باعث ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ ذکر کرنا ۔ “ اُس شخص نے سوال کیا : نیک لوگوں میں کن کو زیادہ اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرتے ہوں ۔ “ پھر اُس شخص نے نماز ، زکوۃ اور صدقہ ، سب چیزوں کا ذکر کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی ارشاد فرماتے رہے : وہ لوگ جو اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے ہوں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوحفص ! ذکر کرنے والے لوگ ، ہر قسم کی بھلائی لے گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا ہی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اُس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: مجاہدین میں کسے زیادہ اجر ملے گا ؟ “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی زبان بن فائد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، ابن لہیعہ کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔