مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَالْإِكْثَارِ مِنْهُ باب: اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت اور اُسے زیادہ کرنا
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ : أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ لَهُمْ : إِنَّ آخِرَ كَلَامٍ فَارَقْتُ عَلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ قُلْتُ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنْ تَمُوتَ وَلِسَانُكَ رَطْبٌ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي هَذِهِ الطَّرِيقِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ وَغَيْرِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ غَيْرِ طَرِيقِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَخْبِرْنِي بِأَفْضَلِ الْأَعْمَالِ وَأَقْرَبِهَا إِلَى اللَّهِ ؟ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤مالک بن یخامر بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے فرمایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوتے وقت جو میری آخری گفتگو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئی تھی ، اُس میں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کہ تم ایسی حالت میں مرو کہ تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس طریق میں ایک راوی خالد بن یزید بن عبدالرحمن بن ابومالک ہے ، جسے ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابوزرعہ دمشقی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دوسرے حوالے سے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آپ مجھے سب سے زیادہ فضیلت والے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کے بارے میں بتائیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
اس روایت کی سند حسن ہے ۔