مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأذكار— اذکار کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَالْإِكْثَارِ مِنْهُ باب: اللہ کا ذکر کرنے کی فضیلت اور اُسے زیادہ کرنا
وَعَنْ جَابِرٍ - رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا عَمِلَ آدَمِيٌّ عَمَلًا أَنْجَى لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى " . قِيلَ : وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا أَنْ يَضْرِبَ بِسَيْفِهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” آدمی کوئی ایسا عمل نہیں کرتا ، جو اُسے عذاب سے ، اللہ کے ذکر سے زیادہ نجات دینے والا ہو ، عرض کی گئی : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں ، البتہ اس صورت کا معاملہ مختلف ہے کہ آدمی اپنی تلوار کے ذریعے ضرب لگاتا رہے ، یہاں تک کہ وہ ( تلوار ) ٹوٹ جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور حجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔