حدیث نمبر: 13368
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ - وَلَيْسَ بِالْأَنْصَارِيِّ - كَانَ فِي عِيرٍ لِخَدِيجَةَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مَعَهُ فِي تِلْكَ الْعِيرِ فَقَالَ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرَى فِيكَ خِصَالًا وَأَشْهَدُ أَنَّكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي يَخْرُجُ مِنْ تِهَامَةَ ، وَقَدْ آمَنْتُ بِكَ ، فَإِذَا سَمِعْتُ بِخُرُوجِكَ أَتَيْتُكَ . فَأَبْطَأَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى كَانَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ أَتَاهُ ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ : " مَرْحَبًا بِالْمُهَاجِرِ الْأَوَّلِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مَنَعَنِي أَنْ أَكُونَ مِنْ أَوَّلِ مَنْ أَتَاكَ وَأَنَا مُؤْمِنٌ بِكَ ، غَيْرُ مُنْكِرٍ لِبَيْعَتِكَ وَلَا نَاكِثٍ لِعَهْدِكَ ، وَآمَنْتُ بِالْقُرْآنِ ، وَكَفَرْتُ بِالْوَثَنِ ، إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَتْنَا بَعْدَكَ سَنَوَاتٌ شِدَادٌ مُتَوَالِيَاتٌ ، تَرَكَتِ الْمُخَّ رُزَامًا ، وَالْمَطِيَّ هَامًا ، غَاضَتْ بِهَا الدَّرَّةُ ، وَنَبَعَتْ لَهَا النَّثْرَةُ ، وَعَادَتْ لَهَا السِّعَادُ مُنْخَرَمًا ، وَاجْتَاحَتْ جَمِيعَ السُّنَنِ [بِالْأَرْضِ] وَالْقَنَطَةُ وَالْعُصَاةُ مُسْتَخْلَفًا وَالْوَشِيجُ مُسْتَحْكِمًا [أَ]يْبَسَتِ الْأَرْضُ الْوَدِيسُ وَاجْتَاحَتْ جَمِيعَ الْبَنِينِ ، وَأَثْبَتْ حَتَّى قُنطَةَ الْقِنْطِةِ أَسَدٌ غَيْرُ نَاكِثٍ لِعَهْدِي ، وَلَا مُنْكِرٍ لِبَيْعَتِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَلِّ عَنْكَ ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَاسِطٌ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِمُسِيءِ النَّهَارِ لِيَتُوبَ ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ . وَبَاسِطٌ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِمُسِيءِ اللَّيْلِ فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَإِنَّ الْحَقَّ ثَقِيلٌ لِثِقَلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ الْبَاطِلَ خَفِيفٌ لِخِفَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّ الْجَنَّةَ مَحْظُورٌ عَلَيْهَا بِالْمَكَارِهِ ، وَإِنَّ الدُّنْيَا مَحْظُورٌ عَلَيْهَا بِالشَّهَوَاتِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ ضَوْءِ النَّهَارِ وَظُلْمَةِ اللَّيْلِ ، وَعَنْ حَرِّ الْمَاءِ فِي الشِّتَاءِ ، وَعَنْ بَرْدِهِ فِي الصَّيْفِ ، وَعَنِ الْبَلَدِ الْأَمِينِ ، وَعَنْ مَنْشَأِ السَّحَابِ ، وَعَنْ مَخْرَجِ الْجَرَادِ ، وَعَنِ الرَّعْدِ وَالْبَرْقِ ، وَعَنْ مَا لِلرَّجُلِ مِنَ الْوَلَدِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا ظُلْمَةُ اللَّيْلِ وَضَوْءُ النَّهَارِ : فَإِنَّ الشَّمْسَ إِذَا سَقَطَتْ سَقَطَتْ تَحْتَ الْأَرْضِ فَأَظْلَمَ اللَّيْلُ لِذَلِكَ ، وَإِذَا أَضَاءَ الصُّبْحُ ابْتَدَرَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، وَهِيَ تُقَاعِسُ كَرَاهِيَةَ أَنْ تُعْبَدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ، حَتَّى تَطْلُعَ فَتُضِيءُ ، فَيَطُولُ النَّهَارُ بِطُولِ مُكْثِهَا ، فَيَسْخُنُ الْمَاءُ لِذَلِكَ وَإِذَا كَانَ الصَّيْفُ قَلَّ مُكْثُهَا فَبَرُدَ الْمَاءُ لِذَلِكَ . وَأَمَّا الْجَرَادُ : فَإِنَّهُ نَثْرَهُ حُوتٌ فِي الْبَحْرِ يُقَالُ لَهُ : الْأَبْوَاتُ ، وَفِيهِ يَهْلَكُ . وَأَمَّا مَنْشَأُ السَّحَابِ : فَإِنَّهُ يَنْشَأُ مِنْ قِبَلِ الْخَافِقَيْنِ ، وَمِنْ [بَيْنِ] الْخَافِقَيْنِ تُلْجِمُهُ الصَبَا وَالْجَنُوبُ ، وَيَسْتَدْبِرُهُ الشَّمَالُ وَالدَّبُورُ . وَأَمَّا الرَّعْدُ : فَإِنَّهُ مَلَكٌ بِيَدِهِ مِخْرَاقٌ ، يُدْنِي الْقَاصِيَةَ وَيُؤَخِّرُ الدَّانِيَةَ ، فَإِذَا رَفَعَ بَرَقَتْ ، وَإِذَا زَجَرَ رَعَدَتْ ، وَإِذَا ضَرَبَ صَعَقَتْ . وَأَمَّا مَا لِلرَّجُلِ مِنَ الْمَرْأَةِ وَمَا لِلْمَرْأَةِ : فَإِنَّ لِلرَّجُلِ الْعِظَامَ وَالْعُرُوقَ وَالْعَصَبَ ، وَلِلْمَرْأَةِ اللَّحْمُ وَالدَّمُ وَالشَّعْرُ . وَأَمَّا الْبَلَدُ الْأَمِينُ : فَمَكَّةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو عِمْرَانَ ، ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ وَلَمْ يَنْقُلْ تَضْعِيفَهُ عَنْ أَحَدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبدالله بن خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ ، یہ انصاری نہیں ہیں ، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قافلے میں موجود تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اعلان نبوت سے پہلے ) ان کے ساتھ اس قافلے میں موجود تھے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! میں نے آپ کے اندر کچھ چیزیں دیکھی ہیں ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، آپ اللہ کے نبی ہیں ، جو تہامہ سے نکلیں گے ، میں آپ پر ایمان لاتا ہوں ، جب میں آپ کے خروج کے بارے میں سنوں گا ، تو میں آپ کے پاس آ جاؤں گا ، پھر انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک آنے میں تاخیر ہو گئی ، یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا جب مکہ فتح ہو گیا ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا تو فرمایا : پہلے مہاجر کو خوش آمدید ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس پہلے اس لئے نہیں آ سکا ، ایسا نہیں ہے کہ میں آپ پر ایمان نہیں رکھتا تھا ، یا میں نے آپ کی بیعت کا انکار کر دیا تھا ، یا آپ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا تھا ، میں قرآن پر بھی ایمان رکھتا تھا اور میں نے بتوں کا انکار بھی کیا تھا ، لیکن ہوا یہ کہ آپ کے بعد ہمیں شدید ترین قحط سالی کے مسلسل سالوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ، جس نے گودے کو بے کار کر دیا ، سواریوں کو بیمار کر دیا ، اس کی وجہ سے دودھ غائب ہو گیا ، اور چھینکیں آنے لگیں ، اس کی وجہ سے سعادت مندی خلل پذیر ہو گئی ، زمین میں کھیتی باڑی کے تمام آلات ضائع ہو گئے ، مایوسی اور بے چینی نے جگہ بنا لی ، پریشانی مستحکم ہو گئی ، زمین کے نباتات خشک ہو گئے ، بال بچے ہلاکت کا شکار ہونے لگے ، بس مایوسی ہی مایوسی تھی ، بہرحال میں آپ کے پاس آیا ہوں ، ایسے عالم میں کہ میں نہ تو اپنے عہد کو توڑنے والا ہوں اور نہ ہی اپنی بیعت کا انکار کرنے والا ہوں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم اس کو چھوڑو ۔ اللہ تعالیٰ اپنا ہاتھ رات کے وقت بڑھاتا ہے ، تاکہ دن کے وقت برائی کرنے والا توبہ کر لے ، اگر وہ شخص توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اور دن کے وقت وہ اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے ، تاکہ رات کے وقت برائی کرنے والا توبہ کر لے ، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ، حق قیامت کے دن اپنے بوجھ کی وجہ سے بوجھل ہو گا ، اور باطل قیامت کے دن اپنے ہلکے پن کی وجہ سے ہلکا ہو گا ، اور جنت کو ناپسندیدہ چیزوں کے اندر رکھا گیا ہے ، اور جہنم کو نفسانی خواہشات کے اندر رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی کے بارے میں اور گرمیوں میں پانی کے گرم ہونے اور سردیوں میں ٹھنڈا ہونے اور بلدامین کے بارے میں اور جہاں سے بادل نکلتا ہے ۔ اس کے بارے میں اور جہاں سے ٹڈی دل نکلتا ہے ۔ اس کے بارے میں اور گرج چمک کے بارے میں بتائیے اور یہ بتائیے کہ بچے میں سے مرد کا کیا ہوتا ہے ، اور عورت کا کیا ہوتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہاں تک رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کا تعلق ہے تو جب سورج گرتا ہے تو وہ زمین کے نیچے چلا جاتا ہے ، اسی وجہ سے رات تاریک ہو جاتی ہے جب صبح کی روشنی ہوتی ہے تو ستر ہزار فرشتے لپک کر اس کی طرف جاتے ہیں اور وہ لیت و لعل سے کام لیتا ہے ، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کی عبادت کی جائے ، یہاں تک کہ وہ طلوع ہوتا ہے تو روشنی کر دیتا ہے پھر دن بھر اس کے طویل ٹھہرنے کی وجہ سے دن طویل ہوتا ہے اور اسی وجہ سے پانی گرم ہو جاتا ہے ، لیکن جب سردی ہوتی ہے تو اس کا ٹھہرنا کم ہو جاتا ہے ، اسی وجہ سے پانی ٹھنڈا ہوتا ہے ، جہاں تک ٹڈی دل کا تعلق ہے ، تو وہ سمندر میں موجود مچھلی کی چھینک سے پیدا ہوتا ہے ، جس کا نام ” ابوات “ ہے ، اور اس میں وہ ہلاک ہو جاتا ہے ، جہاں تک بادل کی پیدائش کا تعلق ہے ، تو زمین و آسمان کے درمیان والی طرف سے پیدا ہوتا ہے اور زمین و آسمان والی طرف سے صبا اور جنوب نامی ہوائیں اس کو لگام ڈالتی ہیں اور شمارل اور دبور نامی ہوائیں اسے پیچھے کر دیتی ہیں ، جہاں تک کڑک کا تعلق ہے تو ایک فرشتہ ہے ، جس کے ہاتھ میں ایک کوڑا ہوتا ہے ، وہ پیچھے والی کو قریب کرتا ہے اور قریب والی کو پیچھے کر دیتا ہے ، جب وہ ہاتھ اُٹھاتا ہے تو بجلی چمکتی ہے ، جب وہ ڈانٹتا ہے تو کڑک پیدا ہوتی ہے ، جب وہ ضرب لگاتا ہے تو بجلی چمکتی ہے ، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مرد کو عورت سے کیا ملتا ہے اور عورت کو مرد سے کیا ملتا ہے ، تو مرد کی طرف سے ہڈیاں پٹھے اور رگیں ہوتی ہیں اور عورت کی طرف سے گوشت خون اور بال ہوتے ہیں ، جہاں تک ” بلدامین “ کا تعلق ہے تو اس سے مراد ” مکہ “ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن یعقوب ابوعمران ہے ، ذہبی نے اس حدیث کو اس کے حالات میں ذکر کیا ہے ، اور کسی شخص کے حوالے سے اس کے ضعیف ہونے کو نقل نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13368
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف