مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ باب: مخلوقات کے عجائب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِمَّا خَلَقَ اللَّهُ لَدِيكًا بَرَاثِنُهُ عَلَى الْأَرْضِ السَّابِعَةِ وَعُرْفُهُ مُنْضَوٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، جَنَاحَاهُ بِالْأُفُقَيْنِ ، فَإِذَا بَقِيَ ثُلْثُ اللَّيْلِ الْآخِرِ ضَرَبَ بِجَنَاحَيْهِ ثُمَّ قَالَ : سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، لَا إِلَهَ غَيْرُهُ . فَيَسْمَعُهُ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ ، فَتَرَوْنَ الدِّيَكَةَ إِنَّمَا تَضْرِبُ بِأَجْنِحَتِهَا إِذَا صَرَخَتْ ، إِذَا سَمِعَتْ ذَلِكَ " ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک مرغ پیدا کیا ہے ، جس کے پنجے ساتویں زمین پر ہیں اور کلغی عرش کے نیچے ہے ۔ اس کے دونوں پر دونوں افق میں ہیں ، جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے ، تو وہ اپنے دونوں پر مارتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، سُبْحَانَ رَبِّنَا الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ، لَا إِلَهَ غَيْرُهُ» ( ہر عیب سے پاک ہے ۔ وہ جو باشادہ ہے ، اور پاک ہے ہمارا پروردگار ہر عیب سے پاک ہے ، جو بادشاہ ہے ، اور پاک ہے ۔ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ) تو زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز اس کو سن لیتی ہے ، صرف دو قسم کے گروہ ( یعنی جنات اور انسان ) اسے نہیں سن پاتے ہیں ، تو تم مرغ کو دیکھو گے کہ جب وہ اس آواز کو سنتا ہے ، تو وہ بھی اپنے پر مارتا ہے ، اور بانگ دیتا ہے ۔ “