مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ باب: مخلوقات کے عجائب کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي لَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ فَوْقَ - أَوْ فَوْقِي - فَإِذَا أَنَا بِرَعْدٍ وَبَرْقٍ وَصَوَاعِقَ قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ ، فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ قُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا . فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَنَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي ، فَإِذَا أَنَا بِرِيحٍ وَأَصْوَاتٍ وَدُخَانٍ فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذِهِ شَيَاطِينُ يُحْرَقُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ ، لَا يَتَفَكَّرُونَ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ قِصَّةَ أَكَلَةِ الرِّبَا فَقَطْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الصَّلْتِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، میں نے دیکھا کہ جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو میں نے اپنے اوپر دیکھا ، تو وہاں کڑک تھی بجلی تھی اور بجلیاں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے ، جن میں سانپ موجود تھے ، جو ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آ رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ سود کھانے والے لوگ ہیں ، جب میں اتر کر آسمان دنیا کی طرف آیا اور میں نے اپنے نیچے کی طرف دیکھا ، تو مجھے ہوا آوازیں اور دھواں نظر آیا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا : یہ شیاطین ہیں جنہیں بنو آدم کی آنکھوں میں جلا دیا جاتا ہے ، وہ لوگ کہ جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں ، اگر ایسا نہ ہو تو یہ لوگ حیران کن چیزیں دیکھیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس میں سے صرف سود کھانے والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوصلت ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔