حدیث نمبر: 13349
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُمْ يَقُولُونَ (؟) فِي عُرْسٍ : ¤ وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا تَنْصَحَ فِي الْمِرْبَدِ وَزَوْجُكِ فِي الْنَادِي ¤ وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ . أَلَا قُلْتُمْ : ¤ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ ¤ " . قُلْتُ : لِعَائِشَةَ أَحَادِيثُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو ایک شادی کے موقع پر یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا : ” اس نے ہمیں ایک دنبہ تحفے میں دیا ہے جو چراگاہ میں چرتا رہا ہے ، اور اے لڑکی تمہارا شوہر جب محفل میں ہوتا ہے ، تو وہ یہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل کیا ہو گا ، یہ صرف اللہ جانتا ہے ، تم لوگ یہ کیوں نہیں پڑھتے : ” ہم تمہارے پاس آئے ہیں ، ہم تمہارے پاس آئے ہیں ، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا: اور انہوں نے تمہیں خوش آمدید کہا: ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے کچھ احادیث اس سیاق کے بغیر منقول ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2108)»