مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ : ذَكَرْتُ بَنِي نَاجِيَةٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
عَيْنُ فَابْكِي سَامَةَ بْنَ لُؤَيٍّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : "
عَلُقَتْ بِسَامَّةَ الْعَلَاقَةُ " . وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ .
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو ناجیہ کا ذکر کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا یا شاید کسی نے یہ کہا: ” اے آنکھ تم سامہ بن لوئی پر رؤو ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : راوی کو شک ہے ، شاید کسی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات کہی تھی ( یہ دراصل سابقہ مصرعہ کا دوسرا مصرعہ ہی ہے ) ۔ ” سامہ بن لؤی ، جس کی اولاد کو ان کی ماں ناجیہ کی طرف منسوب کر کے ” بنو ناجیہ “ کہا: جاتا ہے ، اُس ” سامہ “ کے ساتھ لپٹنے والی چیز ( یعنی موت ) لپٹ گئی ( یا وہ سانپ مراد ہو گا ، جس کے ڈسنے سے وہ مرا تھا ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور امام بزار کا استاد محمد بن مروان ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔