حدیث نمبر: 13348
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ : ذَكَرْتُ بَنِي نَاجِيَةٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ عَيْنُ فَابْكِي سَامَةَ بْنَ لُؤَيٍّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ¤ عَلُقَتْ بِسَامَّةَ الْعَلَاقَةُ " . وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو ناجیہ کا ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا یا شاید کسی نے یہ کہا: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو ناجیہ کا ذکر کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا یا شاید کسی نے یہ کہا: ” اے آنکھ تم سامہ بن لوئی پر رؤو ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : راوی کو شک ہے ، شاید کسی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات کہی تھی ( یہ دراصل سابقہ مصرعہ کا دوسرا مصرعہ ہی ہے ) ۔ ” سامہ بن لؤی ، جس کی اولاد کو ان کی ماں ناجیہ کی طرف منسوب کر کے ” بنو ناجیہ “ کہا: جاتا ہے ، اُس ” سامہ “ کے ساتھ لپٹنے والی چیز ( یعنی موت ) لپٹ گئی ( یا وہ سانپ مراد ہو گا ، جس کے ڈسنے سے وہ مرا تھا ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور امام بزار کا استاد محمد بن مروان ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2109)»