کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
حدیث نمبر: 13335
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : مَرَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ بِمَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهُمْ مِنْ شِعْرِهِ ، وَهُمْ غَيْرُ نُشَّاطٍ لِمَا يَسْمَعُونَ مِنْهُ ، فَجَلَسَ الزُّبَيْرُ مَعَهُمْ وَقَالَ : مَا لِي أَرَاكُمْ غَيْرَ أَذِنِينَ لِمَا تَسْمَعُونَ مِنْ شِعْرِ ابْنِ الْفُرَيْعَةِ ؟ فَلَقَدْ كَانَ يَعْرِضُ بِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُحْسِنُ اسْتِمَاعَهُ ، وَيُجْزِلُ عَلَيْهِ ثَوَابَهُ ، وَلَا يَشْتَغِلُ عَنْهُ بِشَيْءٍ . فَقَالَ حَسَّانٌ : ¤ أَقَامَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ وَهَدْيِهِ حَوَارِيُّهُ وَالْقَوْلُ بِالْفِعْلِ يَعْدِلُ أَقَامَ عَلَى مِنْهَاجِهِ وَطَرِيقِهِ ¤ يُوَالِي وَلِيَّ الْحَقِّ وَالْحَقُّ أَعْدَلُ هُوَ الْفَارِسُ الْمَشْهُورُ وَالْبَطَلُ الَّذِي ¤ يَصُولُ إِذَا مَا كَانَ يَوْمًا مُحَجَّلُ إِذَا كَشَفَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ حَشَّهَا ¤ بِأَبْيَضَ سَبَّاقٍ إِلَى الْمَوْتِ يَرْفُلُ وَإِنِ امْرَأً كَانَتْ صَفِيَّةُ ¤ أُمَّهُ وَمِنْ أَسَدٍ فِي بَيْتِهَا لَمُؤَمَّلُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی محفل کے پاس سے گزرے ، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو اپنے اشعار سنا رہے تھے اور وہ لوگ جو شاعری سن رہے تھے ، اس میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھ گئے اور بولے : کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تم ابن فریعہ کی شاعری کو دلچسپی سے نہیں سن رہے ہو حالانکہ جب یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پیش کرتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم توجہ سے اسے سنا کرتے تھے اور اس کا ثواب انہیں بتایا کرتے تھے اور اس کو چھوڑ کر دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے ، تو سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ( یعنی سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ) آپ کے عہد میں آپ کے طور طریقوں پر برقرار رہے ، اور قول ، فعل کے برابر ( یا مطابق ) ہوتا ہے ، وہ ساتھی آپ کے منہج اور راستے پر برقرار رہے ، وہ حق کے ساتھ رہے ، اور حق سب سے زیادہ عدل والا ہوتا ہے ، وہ مشہور شہسوار ہیں ، اور بہادر ہیں جو جنگ کے دن حملہ آور ہوتے ہیں ( یا مقابلہ کرتے ہیں ) جب جنگ اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹاتی ہے ، اور ( لڑائی کو ) بھڑکاتی ہے ، تو وہ فخر کے ساتھ چلتے ہوئے ، موت کی طرف تیزی سے جاتے ہیں ، وہ ایک ایسے فرد ہیں جن کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ بنو اسد سے تعلق رکھتے ہیں ، اور ان کے گھر میں امید رکھی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13335
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3583)»
حدیث نمبر: 13336
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ ثَوْرٍ الْهِلَالِيِّ أَنَّهُ حِينَ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدَهُ : ¤ أَصْبَحَ قَلْبِي مِنْ سُلَيْمَى مَقْصِدًا إِنْ خَطَأً مِنْهَا وَإِنْ تَعَمُّدًا مِنْ سَاعَةٍ لَمْ تَكُ إِلَّا مَقْعِدًا ¤ فَحَمَلَ الْهَمَّ كِبَارًا جَلْعَدًا تَرَى الْعَلَافِي عُلِيِّهَا مُؤَكَّدًا ¤ دُمًا بِسَقْيِهَا خِدَبٌّ مَا عَدَا إِذَا السَّرَابُ بِالْفَلَاةِ اطَّرَدَا ¤ وَأَبْحَرَ الْمَاءُ الَّذِي تَوَرَّدَا تَوَرُّدَ السَّيِّدِ أَرَادَ الْمَرْصَدَا ¤ بِأَوْرَقَ مَصْدَرٍ مِنْ أَوْرَدَا مَا يَشْفِنِي مِنْكُمْ طَبِيبٌ أَبَدًا ¤ نَجِدُّ فِيمَا يَنْبَغِي وَأَوْجَدَا ¤ حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصْطَفَى مُحَمَّدًا يَتْلُو مِنَ اللَّهِ كِتَابًا مُرْشِدًا ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حمید بن ثور ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے یہ اشعار سنائے : ” میرا دل سلیمیٰ کے ( تیر نظر ) کا نشانہ بنا ہے ، خواہ یہ اس کی طرف سے غلطی سے ہو یا قصد کے ساتھ ہو ، اس گھڑی سے جب وہ اُبھری ہوئی چھاتیوں والی عورت تھی ، تو اس نے بڑی عمر کے مضبوط افراد کو بھی پریشانی کا شکار کر دیا ، تم چارہ فروشوں کو دیکھو گے کہ اس پر مؤکد ہیں ، جو خون آلود زخم کی سیرابی ہے ، جو اپنے علاوہ سے زیادہ بڑا ہے ، جب بے آب و گیاہ جگہ پر سراب پرے کر دیتا ہے ، اور وہ پانی سیراب کرتا ہے ، جس کے پاس آدمی آتا ہے ، جس طرح وہ شیر آتا ہے جو گھات لگانے کا ارادہ رکھتا ہے ، اس بھیڑیے کی ، جس کو لانے والے نے نکالا ہو ، تم لوگوں کی طرف سے کبھی کسی طبیب نے مجھے شفا نہیں دی ، جو مناسب تھا اس پریشانی کا ہم نے سامنا کیا اور دکھ جھیلا ، یہاں تک کہ ہم سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتاب کی تلاوت کر کے رہنمائی کرنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13336
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3602)»
حدیث نمبر: 13337
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ قَوْلَ سُوَيْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ : ¤ لَا تَأْمَنَنَّ وَإِنْ أَمْسَيْتَ فِي حَرَمٍ إِنَّ الْمَنَايَا بِجَنْبَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ وَاسْلُكْ طَرِيقَكَ تَمْشِي غَيْرَ مُخْتَشِعٍ ¤ حَتَّى تُلَاقِيَ مَا يُمَنِّي لَكَ الْمَانِي فَكُلُّ ذِي صَاحِبٍ يَوْمًا مُفَارِقُهُ ¤ وَكُلُّ زَادٍ وَإِنْ أَبْقَيْتَهُ فَانِي وَالْخَيْرُ وَالشَّرُّ مَقْرُونَانِ فِي قَرْنٍ ¤ بِكُلِّ ذَلِكَ يَأْتِيكَ الْجَدِيدَانِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَدْرَكَنِي هَذَا لَأَسْلَمَ " . فَبَكَى أَبِي فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، مَا يُبْكِيكَ مِنْ مُشْرِكٍ مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَقَالَ أَبِي : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْ مُشْرِكٍ خَيْرًا مِنْ سُوَيْدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ شَيْخٍ مَجْهُولٍ هُوَ مَرْدُودٌ بِلَا خِلَافٍ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن مسلم خزاعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، میں نے آپ کو سوید بن عامر بن مصطلق کے یہ اشعار سنائے : ” تم ( خود کو ) محفوظ ہرگز نہ سمجھو ، اگرچہ تم حرم کی حدود میں رہو ، کیونکہ موت ہر انسان کے دونوں پہلوؤں میں ہوتی ہے ، تم اپنے راستے پر چلو ، اور یوں چلو کہ تم جھکنے والے نہ ہو ( اور اس وقت تک چلتے رہو ) کہ تقدیر بنانے والے نے جو ( موت کا وقت ) تمہارا مقدر بنایا ہو ، ہر ساتھی نے ایک دن اپنے ساتھی سے جدا ہونا ہے ، اور ہر سامان نے ، خواہ تم اس کو کتنا ہی سنبھال کے رکھو ، فنا ہونا ہی ہے ، خیر اور شر ایک ہی رسی سے بندھے ہوئے ہیں ، دو نئی چیزیں ( یعنی دن اور رات ) اُن دونوں ( یعنی خیر و شر ) کو تمہارے پاس لے کر آئیں گے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ شخص مجھے پا لیتا ، تو یہ اسلام قبول کر لیتا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میرے والد رو پڑے ، میں نے کہا: اے ابا جان آپ ایک مشرک کی وجہ سے کیوں رو رہے ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں مر گیا تھا ، تو میرے والد نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے سوید سے زیادہ بہتر کوئی مشرک نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے یعقوب بن محمد زہری کے حوالے سے ایک مجہول بزرگ سے نقل کی ہے ، اور کسی اختلاف کے بغیر یہ مردود ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13337
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2105) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (432/19)»
حدیث نمبر: 13338
وَعَنِ النَّابِغَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ مِنْ قَوْلِي : ¤ عَلَوْنَا الْعِبَادَ عِفَّةً وَتَكَرُّمًا وَإِنَّا لَنَرْجُو فَوْقَ ذَلِكَ مَظْهَرًا قَالَ : " أَيْنَ الْمَظْهَرُ يَا أَبَا لَيْلَى ؟ " . قُلْتُ : الْجَنَّةُ . قَالَ : " أَجَلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " أَنْشِدْنِي " . فَأَنْشَدْتُهُ مِنْ قَوْلِي : ¤ وَلَا خَيْرَ فِي حِلْمٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ بَوَادِرُ تَحْمِي صَفْوَهُ أَنْ يَكَدَّرَا ¤ وَلَا خَيْرَ فِي جَهْلٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ حَلِيمٌ إِذَا مَا أَوْرَدَ الْأَمْرَ أَصْدَرَا ¤ قَالَ : " أَحْسَنْتَ لَا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نابغہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اپنا یہ شعر سنایا : ” ہم نے پاکدامنی اور عزت کے حوالے سے لوگوں پر بلندی حاصل کی ہے ، اور اس کے بعد ہمیں ” مظہر “ کے حصول کی بھی امید ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابولیلی مظہر کہاں ہے ؟ میں نے عرض کی : اس سے مراد جنت ہے ، آپ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو وہ مل جائے گی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم مجھے شعر سناؤ ، تو میں نے آپ کو اپنا یہ شعر سنایا : ” ایسی بردباری میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے ہمراہ ایسا غصہ نہ ہو جو اس ( بردباری ) کی صفائی کو گدلا ہونے سے محفوظ رکھے ، اور ایسی جہالت ( یعنی غصے ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے لیے کوئی بردباری نہ ہو ، جو ضرورت پڑنے پر اس ( غصے ) کو پھیر سکے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اچھا شعر کہا: ہے ، تم نے اچھا شعر کہا: ہے ، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ ( کے دانت ) نہ گرائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13338
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2104)»
حدیث نمبر: 13339
وَعَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : امْدُدْ يَدَيْكَ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ . قَالَ ضِرَارٌ ثُمَّ قُلْتُ : ¤ تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ ¤ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ صَفْقَتِي ¤ فَقَدْ بِعْتُ أَهْلِي وَمَالِي بِدَالَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا غُبِنْتَ صَفْقَتَكَ يَا ضِرَارُ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَثْرَمُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی : آپ ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی اسلام پر بیعت کر لوں ، سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں نے یہ اشعار کہے : ” میں نے مغفرت کے حصول اور گریہ و زاری ( یعنی توبہ ) کے لیے پانسے کے تیروں ، کنیزوں کی گائیکی اور شراب کو چھوڑ دیا ہے ، اور شدت ( یعنی جنگ ) کے وقت میرا ( اپنے گھوڑے ) ” محبر“ کو موڑنا اور میرا مشرکین کو جنگ پر برانگیختہ کرنا ( میں نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا ہے ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے اس سودے میں نقصان نہ ہو کیونکہ میں نے اپنے اہل خانہ اور مال کے بدلے میں یہ سودا کیا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ضرار ! تمہارے سودے میں تمہیں نقصان نہیں ہو گا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعد اثرم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13339
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8132)»
حدیث نمبر: 13340
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ : ¤ رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ " . وَقَالَ : ¤ وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ ¤ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیہ کو اس کے اس شعر میں سچا قرار دیا ہے ۔ اس کا شعر یہ ہے : ” ( عرش کو اٹھانے والے چار فرشتوں میں ) دائیں طرف والے پایوں کے ساتھ ایک فرشتہ انسان کی شکل کا ہے ، اور ایک بیل کی شکل کا ہے ، جبکہ دوسری طرف ایک عقاب کی شکل کا ہے اور ایک شیر ( یا چیتے ) کی شکل کا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا: ہے ، اور اس کا یہ شعر بھی ہے : ” سرخ رات کے آخری حصے میں جب سورج ( کے طلوع ہونے کا وقت قریب ہوتا ہے ، اس وقت سورج ) کا رنگ سرخ پھول کی مانند ہوتا ہے ، وہ طلوع ہونے سے انکار کرتا ہے ( کہ میں نے مشرکین پر طلوع نہیں ہونا ) تو وہ اس وقت ہی طلوع ہوتا ہے ، جب اس کو عذاب دیا جائے اور اس کو کوڑے لگائے جائیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13340
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2482) اخرجه احمد فى المسند (2314)»
حدیث نمبر: 13341
وَعَنِ الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ : ¤ يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ ¤ فَخَلَّفَنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتِ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ ¤ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ قَالَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ¤ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : إِنَّ اسْمَ الْأَعْشَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طُرُقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ ، فِي النِّكَاحِ فِي بَابِ النُّشُوزِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اعشی مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو یہ اشعار سنائے : ” اے لوگوں کے سردار ، اور عربوں کے آقا ، میں نے ایک زیادتی کا سامنا کیا ہے ، میں رجب کے مہینے میں اناج حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اس نے میری غیر موجودگی میں زیادتی کی اور بھاگ گئی ، اس نے عہد کی خلاف ورزی کی اور روپوش ہو گئی “ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا ( یعنی یہ الفاظ دہرائے : ) ” ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے ، امام طبرانی نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : اعشی کا نام عبداللہ بن اعور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر کتاب النکاح میں نافرمانی یا ناچاقی ) سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13341
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 13342
وَعَنِ التَّيْهَانِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي سَيْرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا : " خُذْ لَنَا مِنْ هَنَّاتِكَ " . فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيْهَانِ ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا الْهَيْثَمِ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا تیہان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر کی طرف سفر کرنے کے دوران عامر بن اکوع سے یہ کہتے ہوئے سنا ( راوی کہتے ہیں : اکوع کا نام سنان ہے ) تم اپنی اشعار میں سے ہمیں کچھ سناؤ ، تو وہ نیچے اترے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رجز پڑھنا شروع کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے سیدنا ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور میں ابوالہیثم سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13342
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1304)»
حدیث نمبر: 13343
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَنَاشَدُونَ الْأَشْعَارَ وَيَضْحَكُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ يَتَبَسَّمُ مَعَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایک دوسرے کو اشعار سنا کر ہنسا کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے اور مسکرا دیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فضل بن عطیہ ہے اور وہ متروک اور کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13343
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7581)»
حدیث نمبر: 13344
وَعَنِ الْعَجَّاجِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ مَا تَقُولُ فِي هَذَا : ¤ طَافَ الْخَيَالَانِ فَهَاجَا سَقَمًا خَيَالُ سَلْمَى وَخَيَالٌ تَكَتَّمَا قَامَتْ تُرِيكَ رَهْبَةً أَنْ تَصْرِمَا ¤ سَاقًا بَخَنْدَاةً وَكَعْبًا أَدْرَمَا فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كُنَّا نَنْشُدُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَعِيبُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ رَفِيعِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عجاج بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : اس شعر کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں : ” دو طرح کے خیالات چکر لگا رہے ہیں جنہوں نے بیماری کو بڑھا دیا ہے ، سلمیٰ کا خیال اور ایک خیال جو پوشیدہ ہے ، وہ اس لیے کھڑی ہوئی ہے کہ تمہیں اس بات سے ڈرائے کہ وہ موٹی پنڈلی اور کمزور ٹخنے کو کاٹ دے گی ۔ “ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ شعر سنایا کرتے تھے ، تو آپ اس پر اعتراض نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد رفیع بن سلمہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13344
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2111)»
حدیث نمبر: 13345
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، ¤ زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ فِي : " زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا " حَدِيثًا صَحِيحًا . وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے ابوہریرہ وقفے سے ملا کرو محبت میں اضافہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق وقفے سے ملنے کی وجہ سے محبت زیادہ ہونے کے بارے میں کوئی مستند حدیث منقول نہیں ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13345
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2107 و 1922)»
حدیث نمبر: 13346
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَمَثَّلُ بِالْأَشْعَارِ : " ¤ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي [أَثْنَاءِ] حَدِيثٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ اشعار پڑھتے تھے : ” تمہارے پاس اس چیز کے بارے میں اطلاعات آئیں گی جن کے لئے تم نے تیاری نہیں کی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے ایک حدیث کے دوران میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13346
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2106)»
حدیث نمبر: 13347
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ طَرَفَةَ : " ¤ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ طَرَفَةَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطلاع کے بارے میں منتظر ہوتے تھے ( یا اس اطلاع میں تاخیر ہو جاتی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، ” طرفہ “ کا یہ مصرعہ پڑھا کرتے تھے : ” تمہارے پاس ایسی اطلاعات آئیں گی ، جن کے لئے تیاری نہیں کی گئی ہو گی ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” طرفہ“ کی بجائے عبداللہ بن رواحہ کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13347
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (31/6)»
حدیث نمبر: 13348
وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ : ذَكَرْتُ بَنِي نَاجِيَةٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ عَيْنُ فَابْكِي سَامَةَ بْنَ لُؤَيٍّ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ¤ عَلُقَتْ بِسَامَّةَ الْعَلَاقَةُ " . وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو ناجیہ کا ذکر کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا یا شاید کسی نے یہ کہا: سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو ناجیہ کا ذکر کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا یا شاید کسی نے یہ کہا: ” اے آنکھ تم سامہ بن لوئی پر رؤو ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : راوی کو شک ہے ، شاید کسی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات کہی تھی ( یہ دراصل سابقہ مصرعہ کا دوسرا مصرعہ ہی ہے ) ۔ ” سامہ بن لؤی ، جس کی اولاد کو ان کی ماں ناجیہ کی طرف منسوب کر کے ” بنو ناجیہ “ کہا: جاتا ہے ، اُس ” سامہ “ کے ساتھ لپٹنے والی چیز ( یعنی موت ) لپٹ گئی ( یا وہ سانپ مراد ہو گا ، جس کے ڈسنے سے وہ مرا تھا ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور امام بزار کا استاد محمد بن مروان ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13348
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2109)»
حدیث نمبر: 13349
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُمْ يَقُولُونَ (؟) فِي عُرْسٍ : ¤ وَأَهْدَى لَهَا كَبْشًا تَنْصَحَ فِي الْمِرْبَدِ وَزَوْجُكِ فِي الْنَادِي ¤ وَيَعْلَمُ مَا فِي غَدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ . أَلَا قُلْتُمْ : ¤ أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ ¤ " . قُلْتُ : لِعَائِشَةَ أَحَادِيثُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو ایک شادی کے موقع پر یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا : ” اس نے ہمیں ایک دنبہ تحفے میں دیا ہے جو چراگاہ میں چرتا رہا ہے ، اور اے لڑکی تمہارا شوہر جب محفل میں ہوتا ہے ، تو وہ یہ جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کل کیا ہو گا ، یہ صرف اللہ جانتا ہے ، تم لوگ یہ کیوں نہیں پڑھتے : ” ہم تمہارے پاس آئے ہیں ، ہم تمہارے پاس آئے ہیں ، انہوں نے ہمیں خوش آمدید کہا: اور انہوں نے تمہیں خوش آمدید کہا: ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے کچھ احادیث اس سیاق کے بغیر منقول ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2108)»
حدیث نمبر: 13350
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَسَمِعَ صَوْتَ حَادٍ يَحْدُو فَقَالَ : " مِيلُوا بِنَا إِلَيْهِ " . فَقَالَ : " مِمَّنِ الْقَوْمُ ؟ " . قَالُوا : مِنْ مُضَرَ . قَالَ : " وَأَنَا مِنْ مُضَرَ " . قَالُوا : إِنَّا أَوَّلُ مَنْ حَدَا . قَالَ : " وَكَيْفَ ؟ " . قَالَ : كَانَ غُلَامٌ لَنَا وَمَعَهُ إِبِلٌ ، فَنَامَ فَتَفَرَّقَتِ الْإِبِلُ عَنْهُ ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَهُ عَلَى يَدِهِ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : وَايَدَاهُ ، وَايَدَاهُ فَجَعَلَتِ الْإِبِلُ تَجْتَمِعُ إِلَيْهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی حدی خوان کو حدی پڑھتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : ہمیں اس کی طرف لے چلو ! آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کا تعلق کس سے ہے ، ان لوگوں نے بتایا : مصر سے ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی مصر قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں ، ان لوگوں نے کہا: ہم نے سب سے پہلے حدی کا آغاز کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس شخص نے بتایا : ہمارا ایک غلام تھا ، اس کے پاس اونٹ تھے وہ غلام سو گیا ، اونٹ اس کو چھوڑ کر ادھر ادھر چلے گئے ، غلام کا مالک آیا اور اس کے ہاتھ پر مارا تو غلام نے یہ کہنا شروع کیا : ہائے میرا ہاتھ ، ہائے میرا ہاتھ ، تو اونٹ آ کر اس کے پاس اکٹھے ہونے لگے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2113)»
حدیث نمبر: 13351
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ : " خُذْ لَنَا مِنْ هَنَّاتِكَ " . قَالَ : فَقَالَ : ¤ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اپنے اشعار ہمیں سناؤ ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” اللہ کی قسم ! اگر اللہ کی ذات نہ ہوتی تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی اور ہم نے صدقہ نہیں دینا تھا ، اور ہم نے نماز نہیں پڑھنی تھی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن حسین بن ابوحسین کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13351
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2115)»
حدیث نمبر: 13352
وَعَنْ [أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ ] نَصْرِ بْنِ دَهْرٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ : " انْزِلْ فَأَسْمِعْنَا مِنْ هَنَّاتِكَ " . قَالَ : فَأَنْشَأَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ¤ وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ¤ وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْتَعْتَنَا بِعَامِرٍ أَوْ بِشِعْرِ عَامِرٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ التَّيْهَانِ فِي هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
ابوہیثم بن نصر بن دہر اسلمی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اٹھو اور ہمیں اپنے اشعار سناؤ ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھنے شروع کیے : ” اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی ، ہم نے صدقہ نہیں کرنا تھا ، اور نماز نہیں پڑھنی تھی ، تو ہم پر سکینت نازل کر اور جب ہم دشمن کا سامنا کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھنا ، دشمن نے ہمارے خلاف سرکشی کی ہے ۔ وہ فتنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہم انکار کرتے ہیں ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس پر رحم کر ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ عامر کے حوالے سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) عامر کی شاعری کے حوالے سے ہمیں نفع حاصل کرنے دیتے تو یہ مناسب تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔ اس سے پہلے اس باب میں سیدنا تیہان رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13352
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2116)»
حدیث نمبر: 13353
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةٍ آخِذٌ بِغَرْزِهِ يَرْتَجِزُ يَقُولُ : ¤ خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ قَدْ أَنْزَلَ الرَّحْمَنُ فِي تَنْزِيلِهِ بِأَنَّ خَيْرَ الْقَتْلِ فِي سَبِيلِهِ ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ قضاء کے لئے داخل ہوئے ، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی لگام کو پکڑا ہوا تھا ، اور وہ رجز کے طور پر یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ” اے کفار کی اولاد ! ان کے راستے کو چھوڑ دو ، رحمان نے اپنی کتاب میں یہ نازل کیا ہے کہ سب سے بہترین مقتول وہ ہے ، جو اس کی راہ میں مارا جائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13353
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2099) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3394)»
حدیث نمبر: 13354
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رُبَّمَا تَمَثَّلَ بِالْبَيْتِ مِنَ الشِّعْرِ مِمَّا كَانَ فِي وَقَائِعِ الْعَرَبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بعض اوقات کسی شعر کا مصرعہ سنا دیا کرتے تھے جس کا تعلق زمانہ جاہلیت کے حالات سے ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13354
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8848)»
حدیث نمبر: 13355
وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : صَحِبْتُ عِمْرَانَ مِنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْبَصْرَةِ ، فَمَا أَتَى عَلَيَّ يَوْمٌ إِلَّا أَنْشَدَنَا فِيهِ شِعْرًا ، وَيَقُولُ لَنَا فِي ذَلِكَ : إِنَّ لَكُمْ فِي الْمَعَارِيضِ لَمَنْدُوحَةٌ عَنِ الْكَذِبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بیان کرتے ہیں : میں کوفہ سے بصرہ تک سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ، مجھ پر جو بھی دن آیا ، اس دن میں انہوں نے ہمیں کوئی شعر سنایا ، وہ ہم سے اس بارے میں یہ کہتے تھے : تمہارے لئے تعریض ( اشارے کنائے میں بات کر کے ) جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13355
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (106/18)»
حدیث نمبر: 13356
وَأَنْشَدَ ابْنُ هَرِمَةَ لِعَمِّهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ هَرِمَةَ : ¤ فَمَنْ لَمْ يُرِدْ مَدْحِي فَإِنَّ قَصَائِدِي نَوَافِقُ عِنْدَ الْأَكْرَمِينَ سَوَامِي نَوَافِقٌ عِنْدَ الْمُشْتَرِي الْحَمْدَ بِالنَّدَى ¤ نَفَاقَ بَنَاتِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ابن ہرمہ نے اپنے چچا ابراہیم بن علی بن ہرمہ کا یہ شعر سنایا : ” جو شخص میری مدح کا ارادہ نہیں کرتا ، تو میرے قصائد معززین کے نزدیک مشک کا برتن ہیں ، خریدار کے نزدیک محفل میں تعریف اہمیت کی حامل ہوتی ہے ، جس طرح حارث بن ہشام کی بیٹیوں کا رواج ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13356
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3340)»