حدیث نمبر: 13350
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَسَمِعَ صَوْتَ حَادٍ يَحْدُو فَقَالَ : " مِيلُوا بِنَا إِلَيْهِ " . فَقَالَ : " مِمَّنِ الْقَوْمُ ؟ " . قَالُوا : مِنْ مُضَرَ . قَالَ : " وَأَنَا مِنْ مُضَرَ " . قَالُوا : إِنَّا أَوَّلُ مَنْ حَدَا . قَالَ : " وَكَيْفَ ؟ " . قَالَ : كَانَ غُلَامٌ لَنَا وَمَعَهُ إِبِلٌ ، فَنَامَ فَتَفَرَّقَتِ الْإِبِلُ عَنْهُ ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَهُ عَلَى يَدِهِ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : وَايَدَاهُ ، وَايَدَاهُ فَجَعَلَتِ الْإِبِلُ تَجْتَمِعُ إِلَيْهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی حدی خوان کو حدی پڑھتے ہوئے سنا ، آپ نے فرمایا : ہمیں اس کی طرف لے چلو ! آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کا تعلق کس سے ہے ، ان لوگوں نے بتایا : مصر سے ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی مصر قبیلے سے تعلق رکھتا ہوں ، ان لوگوں نے کہا: ہم نے سب سے پہلے حدی کا آغاز کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس شخص نے بتایا : ہمارا ایک غلام تھا ، اس کے پاس اونٹ تھے وہ غلام سو گیا ، اونٹ اس کو چھوڑ کر ادھر ادھر چلے گئے ، غلام کا مالک آیا اور اس کے ہاتھ پر مارا تو غلام نے یہ کہنا شروع کیا : ہائے میرا ہاتھ ، ہائے میرا ہاتھ ، تو اونٹ آ کر اس کے پاس اکٹھے ہونے لگے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13350
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2113)»