مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
حدیث نمبر: 13347
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَرَاثَ الْخَبَرَ تَمَثَّلَ بِبَيْتِ طَرَفَةَ : " ¤ وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدْ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ أَنَّهُ جَعَلَ مَكَانَ طَرَفَةَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطلاع کے بارے میں منتظر ہوتے تھے ( یا اس اطلاع میں تاخیر ہو جاتی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، ” طرفہ “ کا یہ مصرعہ پڑھا کرتے تھے : ” تمہارے پاس ایسی اطلاعات آئیں گی ، جن کے لئے تیاری نہیں کی گئی ہو گی ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ” طرفہ“ کی بجائے عبداللہ بن رواحہ کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔