مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ : ¤ رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ " . وَقَالَ : ¤ وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ ¤ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیہ کو اس کے اس شعر میں سچا قرار دیا ہے ۔ اس کا شعر یہ ہے : ” ( عرش کو اٹھانے والے چار فرشتوں میں ) دائیں طرف والے پایوں کے ساتھ ایک فرشتہ انسان کی شکل کا ہے ، اور ایک بیل کی شکل کا ہے ، جبکہ دوسری طرف ایک عقاب کی شکل کا ہے اور ایک شیر ( یا چیتے ) کی شکل کا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے سچ کہا: ہے ، اور اس کا یہ شعر بھی ہے : ” سرخ رات کے آخری حصے میں جب سورج ( کے طلوع ہونے کا وقت قریب ہوتا ہے ، اس وقت سورج ) کا رنگ سرخ پھول کی مانند ہوتا ہے ، وہ طلوع ہونے سے انکار کرتا ہے ( کہ میں نے مشرکین پر طلوع نہیں ہونا ) تو وہ اس وقت ہی طلوع ہوتا ہے ، جب اس کو عذاب دیا جائے اور اس کو کوڑے لگائے جائیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔