حدیث نمبر: 13341
وَعَنِ الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ : ¤ يَا مَالِكَ النَّاسِ وَدَيَّانَ الْعَرَبْ إِنِّي لَقِيتُ ذِرْبَةً مِنَ الذِّرَبْ غَدَوْتُ أَبْغِيهَا الطَّعَامَ فِي رَجَبْ ¤ فَخَلَّفَنِي بِنِزَاعٍ وَهَرَبْ أَخْلَفَتِ الْعَهْدَ وَلَطَّتْ بِالذَّنَبْ ¤ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبْ قَالَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ¤ وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : إِنَّ اسْمَ الْأَعْشَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَعْوَرِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَلَهُ طُرُقٌ أَطْوَلُ مِنْ هَذِهِ ، فِي النِّكَاحِ فِي بَابِ النُّشُوزِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اعشی مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو یہ اشعار سنائے : ” اے لوگوں کے سردار ، اور عربوں کے آقا ، میں نے ایک زیادتی کا سامنا کیا ہے ، میں رجب کے مہینے میں اناج حاصل کرنے کے لیے نکلا تھا ، تو اس نے میری غیر موجودگی میں زیادتی کی اور بھاگ گئی ، اس نے عہد کی خلاف ورزی کی اور روپوش ہو گئی “ ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا ( یعنی یہ الفاظ دہرائے : ) ” ( یہ عورتیں ) مغلوب شخص کے لیے غالب آنے والی سب سے بری چیز ہیں ۔ “
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے ، امام طبرانی نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : اعشی کا نام عبداللہ بن اعور ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر کتاب النکاح میں نافرمانی یا ناچاقی ) سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13341
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح