مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
وَعَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : امْدُدْ يَدَيْكَ أُبَايِعُكَ عَلَى الْإِسْلَامِ . قَالَ ضِرَارٌ ثُمَّ قُلْتُ : ¤ تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ ¤ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ صَفْقَتِي ¤ فَقَدْ بِعْتُ أَهْلِي وَمَالِي بِدَالَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا غُبِنْتَ صَفْقَتَكَ يَا ضِرَارُ " . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَثْرَمُ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی : آپ ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کی اسلام پر بیعت کر لوں ، سیدنا ضرار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں نے یہ اشعار کہے : ” میں نے مغفرت کے حصول اور گریہ و زاری ( یعنی توبہ ) کے لیے پانسے کے تیروں ، کنیزوں کی گائیکی اور شراب کو چھوڑ دیا ہے ، اور شدت ( یعنی جنگ ) کے وقت میرا ( اپنے گھوڑے ) ” محبر“ کو موڑنا اور میرا مشرکین کو جنگ پر برانگیختہ کرنا ( میں نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا ہے ) تو اے میرے پروردگار ! مجھے اس سودے میں نقصان نہ ہو کیونکہ میں نے اپنے اہل خانہ اور مال کے بدلے میں یہ سودا کیا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ضرار ! تمہارے سودے میں تمہیں نقصان نہیں ہو گا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعد اثرم ہے اور وہ متروک ہے ۔