مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
وَعَنِ النَّابِغَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ مِنْ قَوْلِي : ¤ عَلَوْنَا الْعِبَادَ عِفَّةً وَتَكَرُّمًا وَإِنَّا لَنَرْجُو فَوْقَ ذَلِكَ مَظْهَرًا قَالَ : " أَيْنَ الْمَظْهَرُ يَا أَبَا لَيْلَى ؟ " . قُلْتُ : الْجَنَّةُ . قَالَ : " أَجَلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " أَنْشِدْنِي " . فَأَنْشَدْتُهُ مِنْ قَوْلِي : ¤ وَلَا خَيْرَ فِي حِلْمٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ بَوَادِرُ تَحْمِي صَفْوَهُ أَنْ يَكَدَّرَا ¤ وَلَا خَيْرَ فِي جَهْلٍ إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ حَلِيمٌ إِذَا مَا أَوْرَدَ الْأَمْرَ أَصْدَرَا ¤ قَالَ : " أَحْسَنْتَ لَا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا نابغہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو اپنا یہ شعر سنایا : ” ہم نے پاکدامنی اور عزت کے حوالے سے لوگوں پر بلندی حاصل کی ہے ، اور اس کے بعد ہمیں ” مظہر “ کے حصول کی بھی امید ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابولیلی مظہر کہاں ہے ؟ میں نے عرض کی : اس سے مراد جنت ہے ، آپ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو وہ مل جائے گی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم مجھے شعر سناؤ ، تو میں نے آپ کو اپنا یہ شعر سنایا : ” ایسی بردباری میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے ہمراہ ایسا غصہ نہ ہو جو اس ( بردباری ) کی صفائی کو گدلا ہونے سے محفوظ رکھے ، اور ایسی جہالت ( یعنی غصے ) میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جس کے لیے کوئی بردباری نہ ہو ، جو ضرورت پڑنے پر اس ( غصے ) کو پھیر سکے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اچھا شعر کہا: ہے ، تم نے اچھا شعر کہا: ہے ، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ ( کے دانت ) نہ گرائے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔