مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدْتُهُ قَوْلَ سُوَيْدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ : ¤ لَا تَأْمَنَنَّ وَإِنْ أَمْسَيْتَ فِي حَرَمٍ إِنَّ الْمَنَايَا بِجَنْبَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ وَاسْلُكْ طَرِيقَكَ تَمْشِي غَيْرَ مُخْتَشِعٍ ¤ حَتَّى تُلَاقِيَ مَا يُمَنِّي لَكَ الْمَانِي فَكُلُّ ذِي صَاحِبٍ يَوْمًا مُفَارِقُهُ ¤ وَكُلُّ زَادٍ وَإِنْ أَبْقَيْتَهُ فَانِي وَالْخَيْرُ وَالشَّرُّ مَقْرُونَانِ فِي قَرْنٍ ¤ بِكُلِّ ذَلِكَ يَأْتِيكَ الْجَدِيدَانِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَدْرَكَنِي هَذَا لَأَسْلَمَ " . فَبَكَى أَبِي فَقُلْتُ : يَا أَبَتَاهُ ، مَا يُبْكِيكَ مِنْ مُشْرِكٍ مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَقَالَ أَبِي : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِنْ مُشْرِكٍ خَيْرًا مِنْ سُوَيْدٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ شَيْخٍ مَجْهُولٍ هُوَ مَرْدُودٌ بِلَا خِلَافٍ . ¤عمرو بن مسلم خزاعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، میں نے آپ کو سوید بن عامر بن مصطلق کے یہ اشعار سنائے : ” تم ( خود کو ) محفوظ ہرگز نہ سمجھو ، اگرچہ تم حرم کی حدود میں رہو ، کیونکہ موت ہر انسان کے دونوں پہلوؤں میں ہوتی ہے ، تم اپنے راستے پر چلو ، اور یوں چلو کہ تم جھکنے والے نہ ہو ( اور اس وقت تک چلتے رہو ) کہ تقدیر بنانے والے نے جو ( موت کا وقت ) تمہارا مقدر بنایا ہو ، ہر ساتھی نے ایک دن اپنے ساتھی سے جدا ہونا ہے ، اور ہر سامان نے ، خواہ تم اس کو کتنا ہی سنبھال کے رکھو ، فنا ہونا ہی ہے ، خیر اور شر ایک ہی رسی سے بندھے ہوئے ہیں ، دو نئی چیزیں ( یعنی دن اور رات ) اُن دونوں ( یعنی خیر و شر ) کو تمہارے پاس لے کر آئیں گے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر یہ شخص مجھے پا لیتا ، تو یہ اسلام قبول کر لیتا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو میرے والد رو پڑے ، میں نے کہا: اے ابا جان آپ ایک مشرک کی وجہ سے کیوں رو رہے ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں مر گیا تھا ، تو میرے والد نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے سوید سے زیادہ بہتر کوئی مشرک نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے یعقوب بن محمد زہری کے حوالے سے ایک مجہول بزرگ سے نقل کی ہے ، اور کسی اختلاف کے بغیر یہ مردود ہے ۔