مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ ثَوْرٍ الْهِلَالِيِّ أَنَّهُ حِينَ أَسْلَمَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْشَدَهُ :
أَصْبَحَ قَلْبِي مِنْ سُلَيْمَى مَقْصِدًا إِنْ خَطَأً مِنْهَا وَإِنْ تَعَمُّدًا مِنْ سَاعَةٍ لَمْ تَكُ إِلَّا مَقْعِدًا
فَحَمَلَ الْهَمَّ كِبَارًا جَلْعَدًا تَرَى الْعَلَافِي عُلِيِّهَا مُؤَكَّدًا
دُمًا بِسَقْيِهَا خِدَبٌّ مَا عَدَا إِذَا السَّرَابُ بِالْفَلَاةِ اطَّرَدَا
وَأَبْحَرَ الْمَاءُ الَّذِي تَوَرَّدَا تَوَرُّدَ السَّيِّدِ أَرَادَ الْمَرْصَدَا
بِأَوْرَقَ مَصْدَرٍ مِنْ أَوْرَدَا مَا يَشْفِنِي مِنْكُمْ طَبِيبٌ أَبَدًا
نَجِدُّ فِيمَا يَنْبَغِي وَأَوْجَدَا
حَتَّى أَتَيْنَا الْمُصْطَفَى مُحَمَّدًا يَتْلُو مِنَ اللَّهِ كِتَابًا مُرْشِدًا
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْلَى بْنُ الْأَشْدَقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
سیدنا حمید بن ثور ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے یہ اشعار سنائے : ” میرا دل سلیمیٰ کے ( تیر نظر ) کا نشانہ بنا ہے ، خواہ یہ اس کی طرف سے غلطی سے ہو یا قصد کے ساتھ ہو ، اس گھڑی سے جب وہ اُبھری ہوئی چھاتیوں والی عورت تھی ، تو اس نے بڑی عمر کے مضبوط افراد کو بھی پریشانی کا شکار کر دیا ، تم چارہ فروشوں کو دیکھو گے کہ اس پر مؤکد ہیں ، جو خون آلود زخم کی سیرابی ہے ، جو اپنے علاوہ سے زیادہ بڑا ہے ، جب بے آب و گیاہ جگہ پر سراب پرے کر دیتا ہے ، اور وہ پانی سیراب کرتا ہے ، جس کے پاس آدمی آتا ہے ، جس طرح وہ شیر آتا ہے جو گھات لگانے کا ارادہ رکھتا ہے ، اس بھیڑیے کی ، جس کو لانے والے نے نکالا ہو ، تم لوگوں کی طرف سے کبھی کسی طبیب نے مجھے شفا نہیں دی ، جو مناسب تھا اس پریشانی کا ہم نے سامنا کیا اور دکھ جھیلا ، یہاں تک کہ ہم سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کتاب کی تلاوت کر کے رہنمائی کرنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔