مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ جَوَازِ الشِّعْرِ وَالِاسْتِمَاعِ لَهُ باب: شاعری کا جواز اور اسے سننا
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : مَرَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ بِمَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهُمْ مِنْ شِعْرِهِ ، وَهُمْ غَيْرُ نُشَّاطٍ لِمَا يَسْمَعُونَ مِنْهُ ، فَجَلَسَ الزُّبَيْرُ مَعَهُمْ وَقَالَ : مَا لِي أَرَاكُمْ غَيْرَ أَذِنِينَ لِمَا تَسْمَعُونَ مِنْ شِعْرِ ابْنِ الْفُرَيْعَةِ ؟ فَلَقَدْ كَانَ يَعْرِضُ بِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُحْسِنُ اسْتِمَاعَهُ ، وَيُجْزِلُ عَلَيْهِ ثَوَابَهُ ، وَلَا يَشْتَغِلُ عَنْهُ بِشَيْءٍ . فَقَالَ حَسَّانٌ : ¤ أَقَامَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ وَهَدْيِهِ حَوَارِيُّهُ وَالْقَوْلُ بِالْفِعْلِ يَعْدِلُ أَقَامَ عَلَى مِنْهَاجِهِ وَطَرِيقِهِ ¤ يُوَالِي وَلِيَّ الْحَقِّ وَالْحَقُّ أَعْدَلُ هُوَ الْفَارِسُ الْمَشْهُورُ وَالْبَطَلُ الَّذِي ¤ يَصُولُ إِذَا مَا كَانَ يَوْمًا مُحَجَّلُ إِذَا كَشَفَتْ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ حَشَّهَا ¤ بِأَبْيَضَ سَبَّاقٍ إِلَى الْمَوْتِ يَرْفُلُ وَإِنِ امْرَأً كَانَتْ صَفِيَّةُ ¤ أُمَّهُ وَمِنْ أَسَدٍ فِي بَيْتِهَا لَمُؤَمَّلُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی محفل کے پاس سے گزرے ، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو اپنے اشعار سنا رہے تھے اور وہ لوگ جو شاعری سن رہے تھے ، اس میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پاس بیٹھ گئے اور بولے : کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تم ابن فریعہ کی شاعری کو دلچسپی سے نہیں سن رہے ہو حالانکہ جب یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اشعار پیش کرتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم توجہ سے اسے سنا کرتے تھے اور اس کا ثواب انہیں بتایا کرتے تھے اور اس کو چھوڑ کر دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے ، تو سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ( یعنی سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ) آپ کے عہد میں آپ کے طور طریقوں پر برقرار رہے ، اور قول ، فعل کے برابر ( یا مطابق ) ہوتا ہے ، وہ ساتھی آپ کے منہج اور راستے پر برقرار رہے ، وہ حق کے ساتھ رہے ، اور حق سب سے زیادہ عدل والا ہوتا ہے ، وہ مشہور شہسوار ہیں ، اور بہادر ہیں جو جنگ کے دن حملہ آور ہوتے ہیں ( یا مقابلہ کرتے ہیں ) جب جنگ اپنی پنڈلی سے کپڑا ہٹاتی ہے ، اور ( لڑائی کو ) بھڑکاتی ہے ، تو وہ فخر کے ساتھ چلتے ہوئے ، موت کی طرف تیزی سے جاتے ہیں ، وہ ایک ایسے فرد ہیں جن کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں ، وہ بنو اسد سے تعلق رکھتے ہیں ، اور ان کے گھر میں امید رکھی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب زبیری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔