❮
❯
حدیث نمبر: 13334
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَجْتَازُ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ الْقَوْمُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ . فَظَنَنْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُونِي فَجِئْتُ قَالَ : " اجْلِسْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، كَيْفَ تَقُولُ الشِّعْرَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَقُولَ ؟ " . قُلْتُ : أَنْظُرُ ثُمَّ أَقُولُ . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالْمُشْرِكِينَ " . وَلَمْ أَكُنْ أَعْدَدْتُ لِذَلِكَ شَيْئًا فَقُلْتُ :
فَخَبِّرُونِي أَثْمَانَ الْعَبَاءِ مَتَى كُنْتُمْ مَطَارِيقَ أَوْ دَانَتْ لَكُمْ مُضَرُ فَنَظَرْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ جَعَلْتُ قَوْمَهُ أَثْمَانَ الْعَبَاءِ ، فَنَظَرْتُ ثُمَّ قُلْتُ :
يَا هَاشِمَ الْخَيْرِ إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْبَرِيَّةِ فَضْلًا مَا لَهُ غَيْرُ
إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ أَعْرِفُهُ فِرَاسَةً خَالَفَتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا
وَلَوْ سَأَلْتَ أَوِ اسْتَنْصَرْتَ بَعْضَهُمُ فِي جُلِّ أَمْرِكَ مَا آوَوْا وَلَا نَصَرُوا
فَثَبَّتَ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا
قَالَ : " وَأَنْتَ فَثَبَّتَكَ اللَّهُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُدْرِكَ بْنَ عُمَارَةٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ رَوَاحَةَ .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں مسجد میں سے گزرا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران حاضرین میں سے کسی نے کہا: اے عبداللہ بن رواحہ ! مجھے یوں لگا کہ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ہے ، میں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ بن رواحہ بیٹھ جاؤ ، جب تم شعر کہنے لگتے ہو ، تو کیسے شعر کہتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں پہلے جائزہ لیتا ہوں پھر کہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے مشرکین کے خلاف شعر کہنے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی ، تو میں نے یہ اشعار کہے : ” اے عباء کی قیمت والو ( یعنی سستے لوگو ! ) پہلے تم پیدل چلنے والے تھے ، یا مضر نے تمہیں قریب ( یا کمتر ) کر دیا ۔ “ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناگواریت محسوس ہوئی کہ میں نے آپ کی قوم کو ” عباء کی قیمت والو ( یعنی سستے لوگو ! ) “ قرار دیا ہے ، میں نے پھر سوچا اور پھر کہا: ” اے بھلائی والے ہاشم ! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو مخلوق پر فضیلت عطا کی ہے ، جو ایسی فضیلت ہے جو متغیر نہیں ہو گی ، میں آپ میں بھلائی جان گیا ہوں ، جو میں نے فراست کے ذریعے جانی ہے ، وہ لوگ جو دیکھتے ( یا سمجھتے ) ہیں اس کے بارے میں ، میں ان کے برخلاف رائے رکھتا ہوں ، اگر تم اپنے کسی اہم معاملے کے بارے میں ان میں سے کسی ایک سے ( تعاون کا ) پوچھو ، یا مدد مانگو ، تو وہ نہ پناہ دیں گے اور نہ مدد کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو اچھائی عطا کی ہے ، اس پر تمہیں اسی طرح ثابت رکھے جس طرح سیدنا موسیٰ کو ثابت رکھا ، اور وہ ایسی مدد کرے جس طرح ان لوگوں کی مدد کی گئی “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن رواحہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں ثابت رکھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مدرک بن عمارہ نامی راوی نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13334
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع