عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اهْجُوا بِالشِّعْرِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ كَأَنَّمَا تَنْصَحُوهُمْ بِالنَّبْلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم شاعری کے ذریعے ( مشرکین کی ) ہجو کرو ! بے شک مومن اپنے مال اور جان کے ذریعے جہاد کرتا ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، یہ یوں ہے جیسے تم انہیں تیر مارتے ہو ۔ “
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ كَعْبٍ أَيْضًا أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ ؟ قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَلِسَانِهِ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ كُلُّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : اللہ تعالیٰ نے شعر کے بارے میں جو حکم نازل کرنا تھا وہ نازل کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک مومن اپنی جان اور اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ شَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " قُولُوا لَهُمْ كَمَا يَقُولُونَ لَكُمْ " . قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُعَلِّمُهُ إِمَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ : قَالَ : بَيْنَا رَجُلٌ يُنْشِدُ هِجَاءً لِمُعَاوِيَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَمَّارٌ يَسْمَعُهُ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : الزَّقُّ بِالْعَجُوزَيْنِ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَيَقُولُ هَذَا ؟ أَيَقُولُ هَذَا ؟ وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : اجْلِسْ ، فَاسْمَعْ أَوِ اذْهَبْ . ثُمَّ قَالَ عَمَّارٌ : إِنَّا لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِطُرُقٍ ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب مشرکین نے ہماری ہجو کی ، تو ہم نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ان کے بارے میں اسی طرح کہو ، جس طرح وہ تمہارے بارے میں کہتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم لوگ مدینہ منورہ کی کنیزوں کو ( مشرکین کی ہجویہ شاعری ) سکھایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہجو کے بارے میں شعر سنا رہا تھا ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اس کو سن رہے تھے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں بوڑھوں کے پیچھے لگے رہو ! تو اس شخص نے ان سے کہا: سبحان اللہ ! کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، جبکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم بیٹھ جاؤ اور سنو ، یا چلے جاؤ ! پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب مشرکین ہماری ہجو کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہجو کے بارے میں شعر سنا رہا تھا ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اس کو سن رہے تھے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں بوڑھوں کے پیچھے لگے رہو ! تو اس شخص نے ان سے کہا: سبحان اللہ ! کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، جبکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم بیٹھ جاؤ اور سنو ، یا چلے جاؤ ! پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب مشرکین ہماری ہجو کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَسَّانَ : " اهْجُهُمْ - أَوْ هَاجِهِمْ - اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم ان کی ہجو کرو ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم ان کی ہجو کا جواب دو ! اے اللہ ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید فرما ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُنْشِدُ وَيَقُولُ :
أَلَا هَلْ أَتَى غَسَّانَ عَنَّا وَدُونَهُمْ مِنَ الْأَرْضِ حَرْقٌ حَوْلَهُ يُتَتَبَّعُ تُجَالِدُنَا عَنْ حَرَمِنَا كُلُّ فَحْمَةٍ
كَرِدْفٍ لَهَا فِيهَا الْقَوَانِسُ تَلْمَعُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ " . فَقَالَ كَعْبٌ :
تُجَالِدُنَا عَنْ دِينِنَا كُلَّ فَحْمَةٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ يَا كَعْبُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
أَلَا هَلْ أَتَى غَسَّانَ عَنَّا وَدُونَهُمْ مِنَ الْأَرْضِ حَرْقٌ حَوْلَهُ يُتَتَبَّعُ تُجَالِدُنَا عَنْ حَرَمِنَا كُلُّ فَحْمَةٍ
كَرِدْفٍ لَهَا فِيهَا الْقَوَانِسُ تَلْمَعُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ " . فَقَالَ كَعْبٌ :
تُجَالِدُنَا عَنْ دِينِنَا كُلَّ فَحْمَةٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ يَا كَعْبُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اس وقت یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ” خبردار ! کیا غسان ( قبیلے کے لوگوں ) کو ہماری خبر پہنچی ہے ، جبکہ ان کے اور ہمارے درمیان ایک وسیع بیابان ہے ، جس کے اردگرد راستے تلاش کیے جاتے ہیں ، کیا تم ہماری حرمتوں کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو ، ہر ایک ٹکڑا یوں ہے جیسے اس کے پیچھے کوئی ہے ، جس کے خود کا اوپری حصہ چمک رہا ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اے کعب بن مالک ! تو سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ( یعنی انہوں ایک مصرعہ کو تبدیل کر کے یہ پڑھا ) : ” کیا تم ہمارے دین کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو ؟ “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اے کعب !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَجْتَازُ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ الْقَوْمُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ . فَظَنَنْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُونِي فَجِئْتُ قَالَ : " اجْلِسْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، كَيْفَ تَقُولُ الشِّعْرَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَقُولَ ؟ " . قُلْتُ : أَنْظُرُ ثُمَّ أَقُولُ . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالْمُشْرِكِينَ " . وَلَمْ أَكُنْ أَعْدَدْتُ لِذَلِكَ شَيْئًا فَقُلْتُ :
فَخَبِّرُونِي أَثْمَانَ الْعَبَاءِ مَتَى كُنْتُمْ مَطَارِيقَ أَوْ دَانَتْ لَكُمْ مُضَرُ فَنَظَرْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ جَعَلْتُ قَوْمَهُ أَثْمَانَ الْعَبَاءِ ، فَنَظَرْتُ ثُمَّ قُلْتُ :
يَا هَاشِمَ الْخَيْرِ إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْبَرِيَّةِ فَضْلًا مَا لَهُ غَيْرُ
إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ أَعْرِفُهُ فِرَاسَةً خَالَفَتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا
وَلَوْ سَأَلْتَ أَوِ اسْتَنْصَرْتَ بَعْضَهُمُ فِي جُلِّ أَمْرِكَ مَا آوَوْا وَلَا نَصَرُوا
فَثَبَّتَ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا
قَالَ : " وَأَنْتَ فَثَبَّتَكَ اللَّهُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُدْرِكَ بْنَ عُمَارَةٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ رَوَاحَةَ .
فَخَبِّرُونِي أَثْمَانَ الْعَبَاءِ مَتَى كُنْتُمْ مَطَارِيقَ أَوْ دَانَتْ لَكُمْ مُضَرُ فَنَظَرْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ جَعَلْتُ قَوْمَهُ أَثْمَانَ الْعَبَاءِ ، فَنَظَرْتُ ثُمَّ قُلْتُ :
يَا هَاشِمَ الْخَيْرِ إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْبَرِيَّةِ فَضْلًا مَا لَهُ غَيْرُ
إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ أَعْرِفُهُ فِرَاسَةً خَالَفَتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا
وَلَوْ سَأَلْتَ أَوِ اسْتَنْصَرْتَ بَعْضَهُمُ فِي جُلِّ أَمْرِكَ مَا آوَوْا وَلَا نَصَرُوا
فَثَبَّتَ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا
قَالَ : " وَأَنْتَ فَثَبَّتَكَ اللَّهُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُدْرِكَ بْنَ عُمَارَةٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ رَوَاحَةَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں مسجد میں سے گزرا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران حاضرین میں سے کسی نے کہا: اے عبداللہ بن رواحہ ! مجھے یوں لگا کہ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ہے ، میں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ بن رواحہ بیٹھ جاؤ ، جب تم شعر کہنے لگتے ہو ، تو کیسے شعر کہتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں پہلے جائزہ لیتا ہوں پھر کہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے مشرکین کے خلاف شعر کہنے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی ، تو میں نے یہ اشعار کہے : ” اے عباء کی قیمت والو ( یعنی سستے لوگو ! ) پہلے تم پیدل چلنے والے تھے ، یا مضر نے تمہیں قریب ( یا کمتر ) کر دیا ۔ “ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناگواریت محسوس ہوئی کہ میں نے آپ کی قوم کو ” عباء کی قیمت والو ( یعنی سستے لوگو ! ) “ قرار دیا ہے ، میں نے پھر سوچا اور پھر کہا: ” اے بھلائی والے ہاشم ! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو مخلوق پر فضیلت عطا کی ہے ، جو ایسی فضیلت ہے جو متغیر نہیں ہو گی ، میں آپ میں بھلائی جان گیا ہوں ، جو میں نے فراست کے ذریعے جانی ہے ، وہ لوگ جو دیکھتے ( یا سمجھتے ) ہیں اس کے بارے میں ، میں ان کے برخلاف رائے رکھتا ہوں ، اگر تم اپنے کسی اہم معاملے کے بارے میں ان میں سے کسی ایک سے ( تعاون کا ) پوچھو ، یا مدد مانگو ، تو وہ نہ پناہ دیں گے اور نہ مدد کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو اچھائی عطا کی ہے ، اس پر تمہیں اسی طرح ثابت رکھے جس طرح سیدنا موسیٰ کو ثابت رکھا ، اور وہ ایسی مدد کرے جس طرح ان لوگوں کی مدد کی گئی “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن رواحہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں ثابت رکھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مدرک بن عمارہ نامی راوی نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مدرک بن عمارہ نامی راوی نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔