حدیث نمبر: 13329
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اهْجُوا بِالشِّعْرِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ كَأَنَّمَا تَنْصَحُوهُمْ بِالنَّبْلِ " .
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم شاعری کے ذریعے ( مشرکین کی ) ہجو کرو ! بے شک مومن اپنے مال اور جان کے ذریعے جہاد کرتا ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، یہ یوں ہے جیسے تم انہیں تیر مارتے ہو ۔ “
حدیث نمبر: 13330
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ كَعْبٍ أَيْضًا أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ ؟ قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِنَفْسِهِ وَلِسَانِهِ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ كُلُّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ نَحْوَهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : اللہ تعالیٰ نے شعر کے بارے میں جو حکم نازل کرنا تھا وہ نازل کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک مومن اپنی جان اور اپنے مال کے ذریعے جہاد کرتا ہے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں جن میں ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 13331
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ شَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " قُولُوا لَهُمْ كَمَا يَقُولُونَ لَكُمْ " . قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُعَلِّمُهُ إِمَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ : قَالَ : بَيْنَا رَجُلٌ يُنْشِدُ هِجَاءً لِمُعَاوِيَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَمَّارٌ يَسْمَعُهُ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : الزَّقُّ بِالْعَجُوزَيْنِ . فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَيَقُولُ هَذَا ؟ أَيَقُولُ هَذَا ؟ وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : اجْلِسْ ، فَاسْمَعْ أَوِ اذْهَبْ . ثُمَّ قَالَ عَمَّارٌ : إِنَّا لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِطُرُقٍ ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب مشرکین نے ہماری ہجو کی ، تو ہم نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ان کے بارے میں اسی طرح کہو ، جس طرح وہ تمہارے بارے میں کہتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم لوگ مدینہ منورہ کی کنیزوں کو ( مشرکین کی ہجویہ شاعری ) سکھایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہجو کے بارے میں شعر سنا رہا تھا ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اس کو سن رہے تھے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بوڑھی عورتوں کو سکھاؤ ! تو اس شخص نے ان سے کہا: سبحان اللہ ! کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، جبکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم بیٹھ جاؤ اور سنو ، یا چلے جاؤ ! پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب مشرکین ہماری ہجو کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہجو کے بارے میں شعر سنا رہا تھا ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اس کو سن رہے تھے ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بوڑھی عورتوں کو سکھاؤ ! تو اس شخص نے ان سے کہا: سبحان اللہ ! کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں ، جبکہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں ، تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم بیٹھ جاؤ اور سنو ، یا چلے جاؤ ! پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب مشرکین ہماری ہجو کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 13332
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَسَّانَ : " اهْجُهُمْ - أَوْ هَاجِهِمْ - اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم ان کی ہجو کرو ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم ان کی ہجو کا جواب دو ! اے اللہ ! تو روح القدس کے ذریعے اس کی تائید فرما ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13333
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُنْشِدُ وَيَقُولُ : ¤ أَلَا هَلْ أَتَى غَسَّانَ عَنَّا وَدُونَهُمْ مِنَ الْأَرْضِ حَرْقٌ حَوْلَهُ يُتَتَبَّعُ تُجَالِدُنَا عَنْ حَرَمِنَا كُلُّ فَحْمَةٍ ¤ كَرِدْفٍ لَهَا فِيهَا الْقَوَانِسُ تَلْمَعُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ " . فَقَالَ كَعْبٌ : ¤ تُجَالِدُنَا عَنْ دِينِنَا كُلَّ فَحْمَةٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ يَا كَعْبُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اس وقت یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ” خبردار ! کیا انسان ( قبیلے کے لوگوں ) اور اس سے پہلے کی زمین ( کے لوگوں ) کو جلاے جانے کی اطلاع ملی ہے ، جس کے اردگرد اضطراب ہوتا ہے ، کیا تم ہماری حرمتوں کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو ، ہر ایک ٹکڑا یوں ہے جیسے اس کے پیچھے کوئی ہے ، جس کے خود کا اوپری حصہ چمک رہا ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اے کعب بن مالک ! تو سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ( یعنی انہوں ایک مصرعہ کو تبدیل کر کے یہ پڑھا ) : ” کیا تم ہمارے دین کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو ؟ “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اے کعب !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 13334
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أَجْتَازُ فِي الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ قَالَ الْقَوْمُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ . فَظَنَنْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُونِي فَجِئْتُ قَالَ : " اجْلِسْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، كَيْفَ تَقُولُ الشِّعْرَ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَقُولَ ؟ " . قُلْتُ : أَنْظُرُ ثُمَّ أَقُولُ . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالْمُشْرِكِينَ " . وَلَمْ أَكُنْ أَعْدَدْتُ لِذَلِكَ شَيْئًا فَقُلْتُ : ¤ فَخَبِّرُونِي أَثْمَانَ الْعَبَاءِ مَتَى كُنْتُمْ مَطَارِيقَ أَوْ دَانَتْ لَكُمْ مُضَرُ فَنَظَرْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ جَعَلْتُ قَوْمَهُ أَثْمَانَ الْعَبَاءِ ، فَنَظَرْتُ ثُمَّ قُلْتُ : ¤ يَا هَاشِمَ الْخَيْرِ إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْبَرِيَّةِ فَضْلًا مَا لَهُ غَيْرُ ¤ إِنِّي تَفَرَّسْتُ فِيكَ الْخَيْرَ أَعْرِفُهُ فِرَاسَةً خَالَفَتُهُمْ فِي الَّذِي نَظَرُوا ¤ وَلَوْ سَأَلْتَ أَوِ اسْتَنْصَرْتَ بَعْضَهُمُ فِي جُلِّ أَمْرِكَ مَا آوَوْا وَلَا نَصَرُوا ¤ فَثَبَّتَ اللَّهُ مَا آتَاكَ مِنْ حُسْنٍ تَثْبِيتَ مُوسَى وَنَصْرًا كَالَّذِي نُصِرُوا ¤ قَالَ : " وَأَنْتَ فَثَبَّتَكَ اللَّهُ يَا ابْنَ رَوَاحَةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُدْرِكَ بْنَ عُمَارَةٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ رَوَاحَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں مسجد میں سے گزرا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران حاضرین میں سے کسی نے کہا: اے عبداللہ بن رواحہ ! مجھے یوں لگا کہ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا ہے ، میں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبداللہ بن رواحہ بیٹھ جاؤ ، جب تم شعر کہنے لگتے ہو ، تو کیسے شعر کہتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں پہلے جائزہ لیتا ہوں پھر کہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے مشرکین کے خلاف شعر کہنے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی ، تو میں نے یہ اشعار کہے : ” اے عباء کی قیمت والو ( یعنی سستے لوگو ! ) پہلے تم پیدل چلنے والے تھے ، یا مضر نے تمہیں قریب ( یا کمتر ) کر دیا ۔ “ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناگواریت محسوس ہوئی کہ میں نے آپ کی قوم کو ” عباء کی قیمت والو ( یعنی سستے لوگو ! ) “ قرار دیا ہے ، میں نے پھر سوچا اور پھر کہا: ” اے بھلائی والے ہاشم ! اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو مخلوق پر فضیلت عطا کی ہے ، جو ایسی فضیلت ہے جو متغیر نہیں ہو گی ، میں آپ میں بھلائی جان گیا ہوں ، جو میں نے فراست کے ذریعے جانی ہے ، وہ لوگ جو دیکھتے ( یا سمجھتے ) ہیں اس کے بارے میں ، میں ان کے برخلاف رائے رکھتا ہوں ، اگر تم اپنے کسی اہم معاملے کے بارے میں ان میں سے کسی ایک سے ( تعاون کا ) پوچھو ، یا مدد مانگو ، تو وہ نہ پناہ دیں گے اور نہ مدد کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو اچھائی عطا کی ہے ، اس پر تمہیں اسی طرح ثابت رکھے جس طرح سیدنا موسیٰ کو ثابت رکھا ، اور وہ ایسی مدد کرے جس طرح ان لوگوں کی مدد کی گئی “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن رواحہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں ثابت رکھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مدرک بن عمارہ نامی راوی نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مدرک بن عمارہ نامی راوی نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔