مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ باب: مشرکین کی ہجو کرنا
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُنْشِدُ وَيَقُولُ :
أَلَا هَلْ أَتَى غَسَّانَ عَنَّا وَدُونَهُمْ مِنَ الْأَرْضِ حَرْقٌ حَوْلَهُ يُتَتَبَّعُ تُجَالِدُنَا عَنْ حَرَمِنَا كُلُّ فَحْمَةٍ
كَرِدْفٍ لَهَا فِيهَا الْقَوَانِسُ تَلْمَعُ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ " . فَقَالَ كَعْبٌ :
تُجَالِدُنَا عَنْ دِينِنَا كُلَّ فَحْمَةٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ يَا كَعْبُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اس وقت یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ” خبردار ! کیا غسان ( قبیلے کے لوگوں ) کو ہماری خبر پہنچی ہے ، جبکہ ان کے اور ہمارے درمیان ایک وسیع بیابان ہے ، جس کے اردگرد راستے تلاش کیے جاتے ہیں ، کیا تم ہماری حرمتوں کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو ، ہر ایک ٹکڑا یوں ہے جیسے اس کے پیچھے کوئی ہے ، جس کے خود کا اوپری حصہ چمک رہا ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اے کعب بن مالک ! تو سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ( یعنی انہوں ایک مصرعہ کو تبدیل کر کے یہ پڑھا ) : ” کیا تم ہمارے دین کے حوالے سے ہمارے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہو ؟ “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اے کعب !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔