مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ وَالشُّعَرَاءِ باب: شعر اور شاعروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، إِذْ سَمِعَ صَوْتَ غِنَاءٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَنَظَرُوا فَإِذَا رَجُلٌ يُطَارِحُ رَجُلًا الْغِنَاءَ : ¤ لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا فِي النَّارِ فِي الْفِتْنَةِ رَكْسًا ، وَدُعَّهُمَا إِلَى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا مطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی کے گانے کی آواز سنی ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے دیکھا تو ایک شخص دوسرے شخص کو گا کر یہ سنا رہا تھا : ” میرا ساتھی ایسا رہا ، کہ اس کی ہڈیاں چمک رہی تھیں ، جب جنگ اُس سے ہٹی ، تو اس کا یہ عالم ہوا کہ اس کو قبر میں چھپا دیا گیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان دونوں کو آگ میں ، فتنے میں اوندھا کر دے ، اور انہیں جہنم کی آگ کی طرف لے جا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔