مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ وَالشُّعَرَاءِ باب: شعر اور شاعروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : كُنَّا قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ ، فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَغَنَّيَانِ ، وَأَحَدُهُمَا يُجِيبُ الْآخَرَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ لَا يَزَالُ حَوَارِيَّ تَلُوحُ عِظَامُهُ زَوَى الْحَرْبَ عَنْهُ أَنْ يُجَنَّ فَيُقْبَرَا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْظُرُوا مَنْ هُمَا " . قَالَ : فَقَالُوا : فُلَانٌ وَفُلَانٌ . قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَرْكِسْهُمَا رَكْسًا ، وَدُعَّهُمَا إِلَى النَّارِ دَعًّا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ( وَالْبَزَّارُ وَقَالَ : نَظَرَ إِلَى رَجُلَيْنِ يَوْمَ أُحُدٍ يَتَمَثَّلَانِ بِهَذَا الشِّعْرِ فِي حُجْرَةٍ . وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ) ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ . ¤سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے آپ نے دو افراد کو سنا وہ دونوں گنگنا رہے تھے ، ان میں سے ایک دوسرے کو جواب دے رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا : ” میرا ساتھی ایسا رہا ، کہ اس کی ہڈیاں چمک رہی تھیں ، جب جنگ اُس سے ہٹی ، تو اس کا یہ عالم ہوا کہ اس کو قبر میں چھپا دیا گیا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ جائزہ لو ! کہ یہ دونوں کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : یہ فلاں ہے اور فلاں ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان دونوں کو اوندھا کر دے اور انہیں جہنم کی طرف لے جا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن دو افراد کی طرف دیکھا جو ایک حجرے میں یہ شعر ایک دوسرے کو سنا رہے تھے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔