مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَمْدِ وَالْمَدْحِ وَالْمَدَّاحِينَ باب: حمد کرنے ، تعریف کرنے اور تعریف کرنے والوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَحَدٌ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ; وَذَلِكَ أَنَّهُ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ ، وَمَا أَحَدٌ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ ; وَذَلِكَ لِأَنَّهُ مَدَحَ نَفْسَهُ ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ اعْتَذَرَ إِلَى خَلْقِهِ ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْحَمْدُ مِنَ اللَّهِ ، وَذَلِكَ أَنَّهُ حَمِدَ نَفْسَهُ " . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ : " لَا أَغْيَرُ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ " . فَقَطْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادِ بْنِ نُمَيْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ سے زیادہ غصے والا اور کوئی نہیں ہے اسی وجہ سے اس نے فحش چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ تعریف کسی اور کے نزدیک زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، اسی لئے اس نے اپنی مدح بیان کی ہے اور کسی کے نزدیک عذر قبول کرنا ، اللہ تعالیٰ سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، اسی وجہ سے وہ اپنی مخلوق کی طرف سے عذر قبول کرتا ہے ، اور کسی کے نزدیک حمد اللہ تعالیٰ سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اسی وجہ سے اس نے اپنی حمد خود بیان کی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں صرف یہ کلمات مذکور ہیں : ” کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ غصے والا اور کوئی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ مدح اور کسی کو پسند نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن حماد بن نمیر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔