مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَمْدِ وَالْمَدْحِ وَالْمَدَّاحِينَ باب: حمد کرنے ، تعریف کرنے اور تعریف کرنے والوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُنْشِدُكَ ؟ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَأَنْشَدَهُ الرَّابِعَةَ مَدِيحَهُ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كَانَ أَحَدٌ مِنَ الشُّعَرَاءِ يُحْسِنُ فَقَدْ أَحْسَنْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنولیث سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کو شعر سناؤں ، اس نے تین مرتبہ آپ کو اشعار سنائے ۔ یہ بات کہی ، جب چوتھی مرتبہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر شاعروں میں سے کوئی اچھی بات کرتا ہے ، تو تم نے اچھی بات کی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔