حدیث نمبر: 13293
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي حَمَدْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِمَحَامِدَ وَمَدْحٍ وَإِيَّاكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُحِبُّ الْمَدْحَ ، هَاتِ مَا امْتَدَحْتَ بِهِ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . قَالَ : فَجَعَلْتُ أُنْشِدُهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَأْذَنَ آدَمَ ، طُوَالًا ، أَصْلَعَ ، أَيْسَرَ أَعْسَرَ ، قَالَ : فَاسْتَنْصَتَنِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَ لَنَا أَبُو سَلَمَةَ كَيْفَ اسْتَنْصَتَهُ لَهُ ، قَالَ : كَمَا صَنَعَ بِالْهِرِّ ، فَدَخَلَ الرَّجُلُ فَتَكَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ خَرَجَ ، ثُمَّ أَخَذْتُ أُنْشِدُهُ أَيْضًا ، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدُ ، فَاسْتَنْصَتَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَصَفَهُ أَيْضًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ هَذَا الَّذِي تَسْتَنْصِتُنِي لَهُ ؟ فَقَالَ : " هَذَا رَجُلٌ لَا يُحِبُّ الْبَاطِلَ ، هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میں نے اپنے پروردگار کی مختلف کلمات کے ذریعے حمد بیان کی ہے اور آپ کی مدح بیان کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے پروردگار کی مدح کا تعلق ہے ، تو وہ مدح کو پسند کرتا ہے ، تم نے جن کلمات کے ذریعے اپنے پروردگار کی مدح بیان کی ہے ۔ وہ پیش کرو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو اشعار سنانا شروع کیے ، ایک اور شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ گندمی رنگت کا طویل القامت شخص تھا ، جس کے آگے سے بال اڑے ہوئے تھے اور وہ لمبا تڑنگا اور مضبوط جسم کا مالک تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ سے مجھے خاموش کروا دیا ، یہاں ابوسلمہ نامی راوی نے یہ بات کر کے دکھائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کس طرح خاموش کروایا تھا ، یوں جس طرح بلی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص اندر آیا ، تھوڑی دیر بات چیت کرتا رہا پھر چلا گیا ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشعار سنانے شروع کیے ، پھر تھوڑی دیر بعد وہ شخص دوبارہ واپس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے لئے خاموش کروا دیا ، اس کا طریقہ بھی راوی نے بیان کیا کہ پھر کس طرح خاموش کروایا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص کون ہے جس کی وجہ سے آپ نے مجھے خاموش کروایا ہے ، تو آپ نے فرمایا : یہ وہ شخص ہے جو باطل کو پسند نہیں کرتا ، یہ عمر بن خطاب ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی نقل کردہ حدیث کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13293
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (820) اخرجه احمد فى المسند (435/3)»