مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَمْدِ وَالْمَدْحِ وَالْمَدَّاحِينَ باب: حمد کرنے ، تعریف کرنے اور تعریف کرنے والوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ وَمَعَهُ دِينُهُ ، فَيَرْجِعُ وَمَا مَعَهُ شَيْءٌ مِنْهُ ، يَأْتِي الرَّجُلُ لَا يَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ، فَيُقْسِمُ لَهُ بِاللَّهِ : لَأَنْتَ وَأَنْتَ . فَيَرْجِعُ مَا حَلَّ مِنْ حَاجَتِهِ بِشَيْءٍ ، وَقَدْ أَسْخَطَ اللَّهَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤طارق بن شہاب بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک شخص باہر نکلتا ہے ۔ اس کے ساتھ اس کا دین ہوتا ہے ، جب وہ واپس آتا ہے تو اس کے ساتھ دین میں سے کوئی چیز ( ساتھ ) نہیں ہوتی ، وہ کسی شخص کے پاس جاتا ہے ، جو اس کے لئے یا خود اپنے لئے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہیں ہوتا ، لیکن وہ اس شخص کے سامنے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کے کہتا ہے کہ تم ہی تو ہو ، تم ہی ہو ، اور پھر وہ اپنی ضرورت پوری کروا کے واپس آتا ہے ، ایسی حالت میں کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔