مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْبَيَانِ وَتَشْقِيقِ الْكَلَامِ باب: بیان ( یعنی کلام کرنا ) اور کلام کو بنا سنوار کر کرنا
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ ، عَلَيْهِمْ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ وَعَمْرُو بْنُ الْأَهْتَمِ ، وَالزِّبْرِقَانُ بْنُ بَدْرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَمْرِو بْنِ الْأَهْتَمِ : " مَا تَقُولُ فِي الزِّبْرِقَانِ بْنِ بَدْرٍ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُطَاعٌ فِي أَنْدِيَتِهِ ، شَدِيدُ الْعَارِضَةِ ، مَانِعٌ لِمَا وَرَاءَ ظَهْرِهِ . فَقَالَ الزِّبْرِقَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيَعْلَمُ مِنِّي أَكْثَرَ مِمَّا وَصَفَنِي بِهِ ، وَلَكِنَّهُ حَسَدَنِي . فَقَالَ عَمْرٌو : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَزَمِنُ الْمُرُوءَةِ ، ضَيِّقُ الْعَطَنِ ، لَئِيمُ الْخَالِ ، أَحْمَقُ الْوَلَدِ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كَذَبْتُ أَوَّلًا وَلَقَدْ صَدَقْتُ آخِرًا ، وَلَكِنِّي رَضِيتُ فَقُلْتُ أَحْسَنَ مَا عَلِمْتُ ، وَغَضِبْتُ فَقُلْتُ أَقْبَحَ مَا عَلِمْتُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا ، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكَمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْإِصْطَخْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے بنو تمیم کا وفد آپ کی خدمت میں آیا ، جن کے سربراہ سیدنا قیس بن عاصم ، سیدنا عمرو بن اہتم اور سیدنا زبرقان بن بدر رضی اللہ عنہم تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن اہتم رضی اللہ عنہ سے کہا: تم زبرقان بن بدر کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ اپنی محفل میں پیشوا ہے ، شدید مقابلہ کرنے والا ہے اور اپنی پشت کے پیچھے رکاوٹ بننے والا ہے ، تو زبرقان نے کہا: یا رسول اللہ ! اس نے جو میری صفت بیان کی ہے ، یہ میرے بارے میں مجھ سے زیادہ بہتر جانتا ہے لیکن یہ مجھ سے حسد کرتا ہے ، تو عمرو نے کہا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! یہ مروت کے حوالے سے لنجا ہے ، مہمان نوازی کے حوالے سے تنگ ہے ، ننھیال کے حوالے سے کمینہ ہے ، اولاد ہونے کے اعتبار سے احمق ہے ، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں نے پہلے بھی غلط بات نہیں کی تھی اور بعد میں بھی سچ ہی بولا: ہے ، میں جب راضی ہوا تو میں نے اس کے بارے میں جو زیادہ سے زیادہ بہتر بات جانتا تھا ، وہ بیان کر دی اور جب میں غصے میں آیا ، تو میں نے اس کے بارے میں جو زیادہ بری باتیں جانتا تھا ، وہ بیان کر دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، اور بعض اشعار حکمت والے ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں محمد بن موسیٰ اصطخری کے حوالے سے حسن بن کثیر بن یحیی بن ابوکثیر سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔