مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ الْبَيَانِ وَتَشْقِيقِ الْكَلَامِ باب: بیان ( یعنی کلام کرنا ) اور کلام کو بنا سنوار کر کرنا
وَعَنْ مَعْنِ بْنِ يَزِيدَ أَوْ أَبِي مَعْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْتَمِعُوا فِي مَسَاجِدِكُمْ فَإِذَا اجْتَمَعَ كُلُّ قَوْمٍ فَلْيُؤْذِنُونِي " . قَالَ : فَاجْتَمَعْنَا أَوَّلَ النَّاسِ فَأَتَيْنَاهُ ، فَجَاءَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ إِلَيْنَا ، فَتَكَلَّمَ مُتَكَلِّمٌ مِنَّا فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَيْسَ لِلْحَمْدِ دُونَهُ مُقْتَصِرٌ ، وَلَيْسَ وَرَاءَهُ مَنْفَذٌ ، وَنَحْوَ هَذَا . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَامَ ، فَتَلَاوَمْنَا وَلَامَ بَعْضُنَا بَعْضًا فَقُلْنَا : خَصَّنَا اللَّهُ ( بِهِ ) أَنْ أَتَانَا أَوَّلَ النَّاسِ وَإِنْ فَعَلَ وَفَعَلَ . قَالَ : فَأَتَيْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ فَكَلَّمْنَاهُ ، فَأَقْبَلَ يَمْشِي مَعَنَا حَتَّى جَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي كَانَ فِيهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا شَاءَ جَعَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَمَا شَاءَ جَعَلَ خَلْفَهُ ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَأَمَرَنَا وَكَلَّمَنَا وَعَلَّمَنَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ سُهَيْلِ بْنِ ذِرَاعٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثٌ فِي قَوْلِهِ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا " . ¤سیدنا معن بن یزید یا شاید سیدنا ابومعن رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنی مساجد میں اکٹھے ہو جاؤ ، جب سب لوگ جمع ہو جائیں تو مجھے اطلاع دینا ، راوی کہتے ہیں : ہم سب لوگ اکٹھے ہوئے پھر ہم آپ کے پاس آئے ، تو آپ ہمارے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے اور ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے ، ہم میں سے کسی نے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا: ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس سے پہلے حمد پر اکتفاء کرنے والا کوئی نہیں ہے ، اور اس سے آگے کوئی راستہ نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے اور کھڑے ہو گئے ، ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کی ، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ کے حوالے سے خصوصیت عطا کی ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے پہلے ہمارے پاس تشریف لائے تھے ، لیکن پھر یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ہم آپ کے پاس آئے ، ہم نے آپ کو بنو فلاں کی مسجد میں پایا ، ہم نے آپ کے ساتھ بات چیت کی تو آپ چلتے ہوئے ہمارے ساتھ تشریف لے آئے ، یہاں تک کہ آپ اسی محفل میں تشریف فرما ہوئے جہاں آپ پہلے تشریف فرما تھے ، یا اس جگہ کے قریب تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔ اس نے جو چاہا وہ اپنے آگے رکھا اور جو چاہا اپنے پیچھے کیا اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ہمیں احکام بیان کئے ، آپ نے ہمارے ساتھ بات چیت کی ، ہمیں تعلیمات دیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سہیل بن ذراع کا معاملہ مختلف ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ) “ یہ حدیث آگے چل کے آئیں گی ۔