مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ أَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ باب: مشکیزوں کا منہ باندھ دو اور روازے بند کر دو
حدیث نمبر: 13248
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : أَبُو حُمَيْدٍ ، أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ مِنَ الْبَقِيعِ نَهَارًا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا خَمَّرْتَ ، وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ بِعُودٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ الدَّبَّاسِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب جن کا نام ابوحمید تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دن کے وقت بقیع سے ایک برتن لے کے آئے ، جس میں دودھ موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اسے ڈھانپ کیوں نہیں لیا ، خواہ اس پر کوئی لکڑی ہی رکھ دیتے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابراہیم بن سلیمان دباس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔