حدیث نمبر: 13247
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْحِجْرِ ، وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ ، فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَ فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ ، وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ ، وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ " . قَالُوا لِقَتَادَةَ : مَا يُكَرِّهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْحِجْرِ ؟ قَالَ : يُقَالُ : إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کوئی شخص بل میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور جب تم سونے لگو تو چراغ بجھا دو کیونکہ کوئی چوہا بعض اوقات ( چراغ کی ) بھی پکڑ لیتا ہے اور اس کے ذریعے گھر کو جلا دیتا ہے ، تم لوگ مشکیزوں کے منہ بند کر دو اور مشروبات کو ڈھانپ دو اور دروازے رات کے وقت بند کر دو ۔ “ لوگوں نے قتادہ سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بل میں پیشاب کرنے کو کیوں مکروہ قرار دیا ہے ، تو انہوں نے جواب دیا : بات کہی جاتی ہے کہ یہ بل جنات کا مسکن ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13247
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (82/5)»