حدیث نمبر: 13234
وَعَنْ الْمُهَاجِرِ ، مَوْلَى آلِ زِيَادٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا عَلَى حِمَارٍ لِي ، تَكَادُ تُصِيبُ رِجْلِي الْأَرْضَ مِنْ صِغَرِ الْحِمَارِ ، إِذَا أَنَا بِطَلْعَةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يُبْصِرُ فِي الْقَمَرِ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَيْنَ تُرِيدُ ؟ قَالَ : حَاجَةً لِي . قُلْتُ : أَلَا تَرْكَبُ ؟ قَالَ : بَلَى . فَتَخَلَّفْتُ عَلَى عَجُزِ الْحِمَارِ فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَ : لَا أَفْعَلُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِ الدَّابَّةِ ، وَصَاحِبُ الْفِرَاشِ أَحَقُّ بِصَدْرِ الْفِرَاشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ أَبُو النَّضْرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

مہاجر جو آل زیاد کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر سوار تھا ، اور اس کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے میرے پاؤں زمین کے قریب پہنچ رہے تھے ، اسی دوران میرے سامنے امیرالمؤمنین سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ آ گئے جو چاند کو دیکھ رہے تھے ، میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! آپ کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا: اپنے ایک کام کے سلسلے میں ، میں نے عرض کی : کیا آپ سوار نہیں ہوں گے ، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے میں پیچھے ہٹ کر گدھے کے پچھلے حصے پر ہو گیا اور میں نے عرض کی : اے امیرالمؤمنین ! آپ سوار ہو جائیں ۔ انہوں نے فرمایا : میں ایسا نہیں کروں گا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ، اور بچھونے کا مالک بچھونے کے نمایاں حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ابونضر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13234
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف