حدیث نمبر: 13233
وَعَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ قَالَ : بَيْنَا أَنَا عَلَى حِمَارٍ لِي ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَأَخَّرْتُ عَلَى عَجُزِ الْحِمَارِ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْكَبْ . قَالَ : " أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحِمَارُ لَكَ . فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُقَدِّمِهِ ، وَرَكِبْتُ أَنَا عَلَى عَجُزِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ تَرَكَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ أَيْضًا وَقَوَّاهُ النَّسَائِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوتمیمہ ہجیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں اپنے گدھے پر موجود تھا میری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ، میں پیچھے ہٹ کر گدھے کی دم والے حصے پر آ گیا ، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ سوار ہو جائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے گدھے کے اگلے حصے کے زیادہ حق دار ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ گدھا آپ کا ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اگلے حصے پر سوار ہوئے اور میں گدھے کے پچھلے حصے پر سوار ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام أحمد نے متروک قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اسے ضعیف کہا: ہے ، امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قوی کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام أحمد نے متروک قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے بھی اسے ضعیف کہا: ہے ، جبکہ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے قوی قرار دیا ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13233
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً