حدیث نمبر: 13231
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ : خَرَجَ الْحُسَيْنُ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضَهُ الَّتِي بِظَاهِرِ الْحَرَّةِ ، وَنَحْنُ نَمْشِي إِذْ أَدْرَكَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ عَلَى بَغْلَةٍ ، فَنَزَلَ ، فَقَرَّبَهَا إِلَى الْحُسَيْنِ ، فَقَالَ : ارْكَبْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ . فَكَرِهَ ذَلِكَ ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى أَقْسَمَ النُّعْمَانُ عَلَيْهِ ، حَتَّى أَطَاعَ الْحُسَيْنُ بِالرُّكُوبِ ، قَالَ : إِذْ أَقْسَمْتَ ، فَقَدْ كَلَّفْتَنِي مَا أَكْرَهُ ، فَارْكَبْ عَلَى صَدْرِ دَابَّتِكَ ، فَأُرْدِفُكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ ، وَصَدْرِ فِرَاشِهِ ، وَالصَّلَاةِ فِي مَنْزِلِهِ إِلَّا مَا يُجْمَعُ النَّاسُ عَلَيْهِ " . فَقَالَ النُّعْمَانُ : صَدَقَتْ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُ أَبِي بَشِيرٍ يَقُولُ كَمَا قَالَتْ فَاطِمَةُ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَّا مِنْ إِذْنٍ " . فَرَكِبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

امام محمد بن علی بن حسین بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ حرہ کے ظاہری حصے پر موجود اپنی زمین کی طرف جانے کے لئے نکلے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، راستے میں ہماری ملاقات سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو ایک خچر پر سوار تھے ، وہ اس خچر سے نیچے اتر آئے ۔ انہوں نے وہ خچر امام حسین رضی اللہ عنہ کے قریب کیا اور بولے : ابوعبداللہ آپ اس پر سوار ہو جائیں ، امام حسین نے اس بات کو ناپسند کیا ، یہ تکرار چلتی رہی ، یہاں تک کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو قسم دی تو امام حسین نے سوار ہونے کے بارے میں ان کی بات مان لی اور بولے : تم نے قسم دے کر مجھے ایک ایسی چیز کا پابند کر دیا ہے ، جسے میں ناپسند کرتا ہوں ، اب تم جانور کے اگلے حصے پر سوار ہو جاؤ ، میں تمہارے پیچھے بیٹھ جاؤں گا ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی اپنے جانور کے اگلے حصے اور اپنے بچھونے کے نمایاں حصے کا زیادہ حق رکھتا ہے ، اور اپنے گھر میں نماز ( پڑھانے کا ) زیادہ حق رکھتا ہے البتہ اس صورت میں حکم مختلف ہو گا ، جبکہ وہ ایسا امام ہو گا کہ لوگ اس پر اکٹھے ہوں ۔ “ تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کی صاحبزادی نے ٹھیک بیان کیا ہے ، میں نے اپنے والد سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کو وہی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے ، تاہم میرے والد نے ( یہ الفاظ نقل کے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” البتہ اجازت کے ساتھ ایسا کیا جا سکتا ہے ۔ “ تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأدب / حدیث: 13231
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (414/22)»