مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ صَاحِبِ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا باب: جانور کا مالک ، اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے
وَعَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخَطْمِيِّ قَالَ : زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قُبَاءَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ جِئْنَاهُ بِحِمَارٍ يَتَخَالَى قَطُوفٍ ، فَرَكِبَ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا الْغُلَامُ يَأْتِي مَعَكَ يَرُدُّ الدَّابَّةَ . قَالَ : " صَاحِبُ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ارْكَبْهُ وَرُدَّهُ عَلَيْنَا . فَذَهَبَ بِهِ وَرَدَّهُ عَلَيْنَا وَهُوَ هِمْلَاجٌ مَا يُسَايَرُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عصمہ بن مالک خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ملنے کے لئے قباء تشریف لائے ، جب آپ واپس جانے لگے ، تو ہم آپ کی خدمت میں ایک گدھا لے کے آئے جو چھوٹے قدم اٹھاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لڑکا آپ کے ساتھ جائے گا ، اور جانور کو واپس لے آئے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جانور کا مالک اس کے اگلے حصے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہی اس پر سوار ہو جائیں اور آپ ہی ہمیں واپس بھجوا دیجئے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف لے گئے اور پھر آپ نے وہ ہمیں واپس بھجوا دیا ، جب وہ آیا تو وہ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا ، یہاں تک کہ اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔