مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأدب— آداب کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ باب: مرد اور مرد کی ، عورت اور عورت کی مباشرت کی ممانعت
وَعَنْ سَمُرَةَ - يَعْنِي ابْنَ جُنْدُبٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى النِّسَاءَ أَنْ يَضْطَجِعَ بَعْضُهُنَّ مَعَ بَعْضٍ إِلَّا وَبَيْنَهُنَّ ثِيَابٌ ، وَأَنْ يَضْطَجِعَ الرَّجُلُ مَعَ صَاحِبِهِ إِلَّا وَبَيْنَهُمَا ثَوْبٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کو اس بات سے منع کرتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ یوں لیٹیں کہ ان کے درمیان کوئی کپڑا نہ ہو ، البتہ ان کے درمیان کوئی کپڑا ہو تو حکم مختلف ہے ، اور اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ کوئی شخص دوسرے شخص کے ساتھ یوں لیٹے کہ ان کے درمیان کوئی کپڑا نہ ہو ، البتہ اگر ان کے درمیان کوئی کپڑا ہو تو حکم مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔